قعدۂ اولی میں درود پڑھنے والے شافعی امام کے پیچھے حنفی مقتدی کی نماز کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #93Urdu

Question

اگر کوئی حنفی شافعی امام کے پیچھے نماز پڑھے اور امام قعدۂ اولی میں تشہد کے بعد درود شریف بھی پڑھتا ہے جب کہ حنفی کو تشہد کے بعد فوراً کھڑا ہونا چاہیے، تو کیا اس صورت میں حنفی مقتدی کی نماز ہو گی یا نہیں؟

Answer

شافعیہ کے یہاں قعدۂ اولی میں تشہد کے بعد درود شریف پڑھنے کے بارے میں دو اقوال ہیں ؛ ایک قول کے موافق درود شریف پڑھنا چاہیے اور اس کے ترک پر سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے، اِس قول کے پیش نظر اگر شافعی امام نے درود شریف پڑھا تو چونکہ مقتدی کے نزدیک مخالف مذہب امام کی نماز مفسدات سے خالی اور فرائض پر مشتمل ہے اس لیے اس کے پیچھے حنفی مقتدی کی نماز درست ہو جائے گی ۔
قعدۂ اولی میں درود شریف پڑھنا شافعیہ کی کتبِ فقہ میں مذکور ہے ۔ چند عبارات ملاحظہ کیجیے:

قال الإمام الشافعي في الأم: والتشهد والصلاة على النبي ﷺ في التشهد الأول في كل صلاة غير الصبح تشهدان تشهد أول وتشهد آخر، إن ترك التشهد الأول والصلاة على النبي ﷺ في التشهد الأول ساهياً لا إعادة عليه وعليه سجدتا السهو. (كتاب الأم: ۱/۱٤۰، باب التشهد والصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم، ط: دار الفكر).
وفي التنبيه في الفقه الشافعي: وإن كان في صلاة هي ثلاث ركعات أو أربع جلس بعد الركعتين مفترشاً وتشهد وصلى على النبي ﷺ وحده في أحد القولين ولا يصلي في الآخر. (التنبيه في الفقه الشافعي: ۱/۳۲).
(وكذا في البيان في مذهب الامام الشافعي، واللباب في الفقه الشافعي: ۱/۱۵۲).

اقتداء بالمخالف کے بارے میں فتاوی دار العلوم زکریا جلد دوم میں، ص ۳۵۸ سے ۳٦۳ تک (طبع، بمبئی) مفصل فتوی موجود ہے ۔ مزید دلائل کے لیے اس کی مراجعت مفید ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.