حنفی امام کا شافعی طریقے پر وتر کی امامت کرنے کا حکم:
Question
عام طور پر رمضان المبارک میں ہمارے یہاں سے طلباء جنوبی امریکہ تراویح کے لیے جاتے ہیں، وہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ وتر شافعی طریقہ پر پڑھا دو، کیوں کہ مقتدی شافعی المسلک ہوتے ہیں، یعنی دو رکعت اور اس کے بعد ایک رکعت۔ اب اس حنفی امام کو رمضان کے بعد وتر کی قضا کرنی ہو گی یا نہیں؟ نیز مقتدیوں کی نمازِ وتر ادا ہو گی یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ حنفی امام کی نمازِ وتر ادا نہیں ہوئی، کیوں کہ احناف کے نزدیک ایک رکعت نماز نہیں، لہٰذا وتر کی قضا کرے، ہاں شافعی مقتدیوں کی نمازِ وتر ادا ہو جائے گی، کیوں کہ شافعیہ کے یہاں راجح قول کے مطابق مقتدی کی نیت کا اعتبار ہے۔ البتہ آئندہ سے شافعی امام کو وتر پڑھانی چاہیے اور حنفی اس کے پیچھے وتر پڑھ لے اور جب امام دو رکعت پر سلام پھیر دے تو حنفی تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے اور تین وتر پوری کر لے۔ احناف کے ہاں ایک رکعت ممنوع ہے، ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ایک رکعت پڑھنے سے منع کیا گیا ہے:
عن أبي سعيد، أن رسول الله ﷺ نهى عن البتيراء أن يصلي الرجل ركعة واحدة يوتر بها. (التمهيد: ۱۳/۲۵٤، ط: مؤسسة القرطبة). (وكذا في نصب الراية: ۲/۱۲۰).
طبرانی میں روایت ہے:
عن حصين قال: بلغ ابن مسعود رضي الله عنه، أن سعداً يوتر بركعة قال: ما أجزأت ركعة قط. (المعجم الكبير: ۹/۲۸۳/۹٤۲۲، ط: الموصل).
البحر الرائق
میں مرقوم ہے:
وجوزه أبوبكر الرازي ويصلي معه بقية الوتر لأن إمامه لم يخرج بسلامه عنده وهو مجتهد فيه. (البحر الرائق: ۲/٤۲، دار المعرفة).
فتح القدير
میں مرقوم ہے:
وقول أبي بكر الرازي إن اقتداء الحنفي بمن يسلم على رأس الركعتين في الوتر يجوز ويصلي معه بقيته لأن إمامه لم يخرجه بسلامه عنده لأنه مجتهد فيه، كما لو اقتدى بإمام قد رعف يقتضي صحة الاقتداء وإن علم منه ما يزعم به فساد صلاته بعد كون الفصل مجتهداً فيه. (فتح القدير: ۱/٤۳۷، ط: دار الفكر).
(و کذا فی البنایۃ: ۱/۸۳۵، و العرف الشذی: ۱/۱۰٤، و الفتاوی الہندیۃ: ۲/۷، و فتاوی دار العلوم زکریا: ۲/٤۳٦)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3434
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3434