سگریٹ نوشی کرنے والے کی امامت کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #81Urdu

Question

ایک عالم کو سگریٹ نوشی کی عادت ہے، کیا ایسا عالم امامت کرنے کا حقدار ہے؟ کیا اس کے پیچھے نماز ہو جائے گی؟ نیز اس کو مستقل امام بنانے کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

شریعت کی نگاہ میں سگریٹ نوشی ایک قبیح اور ناپسندیدہ چیز ہے اور اس کا پینا مکروہ ہے اس کا ضرر دین و دینا دونوں کو حاوی ہے، ملائکہ کو اس سے اذیت ہوتی ہے اور ایک عالم کی شان کے بالکل خلاف ہے، بایں وجہ عالم کو اس عادتِ قبیحہ سے سچی توبہ کر کے چھوڑ دینا چاہیے، باقی سگریٹ نوشی کرنے والے کی امامت مکروہ ہے ہاں اس کے پیچھے نماز ہو جائے گی، لیکن مستقل امام بناناکراہت سے خالی نہیں ۔
سگریٹ نوشی میں تضییع مال اور اسراف بھی پایا جاتا ہے، اور یہ ممنوع ہے ۔ ملاحظہ ہو :

قال الله تعالى: ﴿وكلوا واشربوا ولا تسرفوا﴾ [الأعراف: ۳۱].
وقال تعالى: ﴿ولا تبذر تبذيراً، إن المبذرين كانوا إخوان الشياطين وكان الشيطان لربه كفوراً﴾ [الإسراء: ۲٦، ۲۷].
وقال تعالى: ﴿ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة﴾ [البقرة: ۱۹۵].
قال رسول الله ﷺ: إن الله حرم عليكم عقوق الأمهات ومنعاً وهات ووأد البنات وكره لكم قيل وقال وكثرة السؤال وإضاعة المال. (رواه البخاري: ۲/۵۹۷۵).

فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے:
جو امام تمباکو کو پیتا ہے اس کے پیچھے بھی نماز درست ہے، لیکن بدبو دار منہ لے کر مسجد میں آنا مکروہِ تحریمی ہے، اس لیے وضو میں مسواک سے منہ خوب صاف کر کے مسجد میں آئے ورنہ فرشتوں کو بھی اذیت ہو گی ۔ (فتاوی محمودیہ: ٦/۸۳، جامعہ فاروقیہ) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا: ۵/۱۳٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.