جماعتِ معادہ میں نو وارد کی شرکت سے متعلق مزید تحقیق:
Question
فتاوی دار العلوم زکریا جلدِ دوم میں آپ نے لکھا ہے کہ صلاۃِ معادہ میں نو وارد کی شرکت کے بارے میں فقہاء کے دو اقوال ہیں؛ ۱ ۔ اقتدا کر سکتا ہے، یہ آسان ہے، ۲ ۔ اقتدا نہیں کر سکتا، یہ احوط ہے ۔ اب میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ دلائل کے اعتبار سے کون سا قول قوی ہے اور جمہور فقہاء نے کون سے قول کو ترجیح دی ہے نیز احادیث و آثار سے کس قول کی تائید ہوتی ہے؟ برائے مہربانی تحقیق فرمائیں، عین نوازش ہو گی ۔
Answer
جماعتِ اعادہ میں جب کہ اعادہ کسی ترکِ واجب کی وجہ سے ہو، نو وارد کی شرکت کے بارے میں قوی اور جمہور فقہاء کے نزدیک راجح قول یہ ہے کہ اقتدا نہ کرے، کیوں کہ پہلی سے سقوطِ فرض کا تحقق ہو گیا، اور جماعتِ ثانیہ من وجہ نفل ہے اور من وجہ واجب ہے کہ اس میں تکمیل فرض ہے ۔ دلائل اور شواہد حسبِ ذیل ملاحظہ فرمائیں: بطورِ استیناس و استشہاد پہلے حدیث شریف ملاحظہ ہو :
(۱) عن القاسم بن مخيمرة قال: أخذ علقمة بيدي فحدثني أن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أخذ بيده وأن رسول الله ﷺ أخذ بيد عبد الله فعلمه التشهد في الصلاة فذكر مثل دعاء حديث الأعمش، إذا قلت هذا أو قضيت هذا فقد قضيت صلاتك إن شئت أن تقوم فقم وإن شئت أن تقعد فاقعد. (رواه أبو داود، رقم ۹۷۲).
حدیثِ بالا اور صحیح ابن حبان، سنن دارمی اور سنن دار قطنی وغیرہ کی احادیث کے الفاظ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنه کو تشہد کی تعلیم دینے کے بعد فرمایا؛ جب آپ یہاں تک پہنچ جاؤ یا اتنا کر لو تو آپ کی نماز ہو گئی ۔ (بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ابن مسعود رضی الله عنه کا قول ہے) حالانکہ سلام واجب ہے ۔ معلوم ہوا کہ فرائض مکمل ہونے کے بعد فرضیت ذمہ سے ساقط ہو جاتی ہے، ہاں ترکِ واجب کی وجہ سے نماز میں جو نقص آیا اس کی تلافی کے لیے سجدۂ سہو یا اعادہ رکھا گیا ہے ۔
(۲) مشہور حدیث مسئی الصلاۃ میں بھی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
فإذا صنعت ذلك فقد قضيت صلاتك وما انتقصت من ذلك فإنما تنقصه من صلاتك. (سنن النسائي، رقم: ۱۰۵۳)
اس میں بھی سلام کا ذکر نہیں، اور حدیث کے الفاظ سے پتا چلتا ہے کہ واجبات میں کوتاہی کرنے سے نماز میں نقص آتا ہے جس کی تلافی کے لیے سجدۂ سہو یا اعادہ رکھا گیا ہے، ہاں فرض ذمہ سے ساقط ہو چکا ۔ ورنہ آپ یہ فرماتے کہ نماز میں کمی کرنے سے نماز نہیں ہوتی ۔ بعض روایات میں
قضيت
کی جگہ:
فقد تمت صلاتك
کے الفاظ موجود ہیں ۔ اور یہ فرمان:
ارجع فصل فإنك لم تصل
، تو اس کے بارے میں علماء نے لکھا ہے کہ نفی کمال مراد ہے یعنی فرض ذمہ سے ساقط ہو گیا لیکن تکمیل فرض کے لیے اعادہ کا حکم دیا گیا ۔
قال العلامة العيني: وقد سمي صلاته صلاة فدل على أن المراد من النفي نفي الكمال
قلت: إنما أمره بالإعادة على الكيفية الكاملة ولا يستلزم ذلك نفي ذات الصلاة فالنفي راجع إلى الصفة لا إلى الذات والدليل عليه أن صلاته لو كانت فاسدة لكان الاشتغال بذلك عبثاً والنبي لا يقرر أحداً على الاشتغال بالعبث، وهذا هو الذي ذكره المتأخرون من أصحابنا. (عمدة القاري: باب وجوب القراء ة: ٤/٤۵٦، ط: دار الحديث، ملتان).
اکثر فقہائے کرام کے یہاں بھی راجح یہ ہے کہ پہلی نماز سے فرض ساقط ہو چکا ۔ چند عبارات ملاحظہ کیجیے:
(۳) قال العلامة الطحطاوي: والمختار أن المعادة لترك واجب نفل جابر والفرض سقط بالأولي لأن الفرض لا يتكرر كما في الدر وغيره. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص؛ ۲٤۸، فصل في واجبات الصلاة، قديمي).
(٤) وفي فتاوى الشامي: قال وأما المعادة لترك واجب فلا شك أنها جابرة لا فرض. (فتاوى الشامي: ۱/٤۱۸، سعيد).
(۵) وفي الأشباه والنظائر: وأما الصلاة المعادة لارتكاب مكروه أو ترك واجب، فلا شك أنها جابرة لا فرض، لقولهم بسقوط الفرض بالأولى. (الأشباه والنظائر: ۱/۱۳٦، ط: إدارة القرآن).
(٦) وقال في الدر المختار: كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها والمختار أنه جابر للأول. وفي الشامية: قوله المختار أنه، أي الفعل الثاني جابر للأول بمنزلة الجبر بسجود السهو وبالأول يخرج عن العهدة وإن كان على وجه الكراهة على الأصح كذا في شرح الأكمل على أصول البزدوي
واختار ابن الهمام الأول، قال: لأن الفرض لا يتكرر. (فتاوى الشامي: ۱/٤۵۷، سعيد).
(۷) وفي فتح القدير: ولا إشكال في وجوب الإعادة إذ هو الحكم في كل صلاة أديت مع كراهة التحريم ويكون جابراً للأول لأن الفرض لا يتكرر. (فتح القدير: ۱/۳۰۱، دار الفكر).
(۸) وفي شرح المنية: والمختار أن الفرض هو الأول والثاني جبر للخلل الواقع فيه بترك الواجب. (غنية المتملي في شرح منية المصلي، ص ۲۹٤، ط: سهيل اكيڈمي). (وكذا في مراقي الفلاح، ص ۲٤۷، قديمي).
(۹) جو شخص قعدۂ اخیرہ کرنے کے بعد سہواً کھڑا ہو جائے اس کے بارے میں فقہاء نے فرمایا:
تم فرضه
یعنی فرائض مکمل ہو گئے، ہاں سلام واجب ہے تو تاخیر واجب کی بنا پر سجدۂ سہو واجب ہے ۔
قال في الاختيار لتعليل المختار: وإن قعد في الرابعة قدر التشهد ثم قام عاد وسلم، وإن سجد في الخامسة تم فرضه فيضم إليها ركعة سادسة ويسجد للسهو. (الاختيار لتعليل المختار: ۱/۷۹، باب سجود السهو، ط: دار الكتب العلمية).
وفي الدر المختار: تم فرضه لأنه لم يبق عليه إلا السلام. (الدر المختار: ۲/۸۷، سعيد). وفي تبيين الحقائق: لأنه لم يترك إلا إصابة لفظ السلام وهي ليست بفرض عندنا. (۱/۱۹۷، إمداديه)
معلوم ہوا کہ فرائض کی ادائیگی سے نماز کی فرضیت ذمہ سے ساقط ہو جاتی ہے، ہاں ترکِ واجب کی وجہ سے نماز میں نقص آیا، اِس کی تلافی سجدۂ سہو سے ہو گی اور نہ کرنے پر اعادہ سے ہو گی ۔ تو نمازِ معادہ اصل نہ ہوئی بلکہ تکملہ ہوئی ۔
(۱۰) فتاوی دار العلوم دیوبند میں مفتی عزیز الرحمن صاحب فرماتے ہیں:
الجواب: اس صورت میں اس کی نماز صحیح نہ ہو گی، کیوں کہ اس صورت میں اس جماعت کے فرض اگر چہ ناقص ہی سہی مگر پہلی دفعہ ادا ہو گئے، لہٰذا اب یہ دوسری نفل نماز ہو گی اور اقتدا مفترض متنفل کے پیچھے صحیح نہیں ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۳/۳۷۱، مدلل و مکمل، ط: دار الاشاعت) ۔
(۱۱) کفایت المفتی میں مذکور ہے:
سوال: امام سے واجب ترک ہوا اس نے سجدۂ سہو نہیں کیا جب ان کو یاد دلایا گیا تو انہوں نے نماز کا اعادہ کیا، اِس لوٹانے والی نماز میں جو اور لوگ آ کر شریک ہوے ہیں ان کی نماز ہو گئی یا نہیں؟
جواب: اس نماز میں دوسرے لوگ جو پہلی جماعت میں شریک نہیں تھے شریک نہیں ہو سکتے، اگر شریک ہوں گے تو ان کے فرض ادا نہ ہوں گے ۔ (کفایت المفتی: ۳/۱۳۸، ط: دار الاشاعت) ۔
(۱۲) فتاوی محمودیہ میں مذکور ہے:
بعد کی نماز نفل ہے لہٰذا جو لوگ صرف بعد والی نماز میں شریک ہوے ہیں ان کی نماز صحیح نہ ہوئی ۔ (فتاوی محمودیہ: ٦/٤٤۲، ط: جامعہ فاروقیہ) ۔
دوسری جگہ مذکور ہے:
اگر فرض ترک ہونے کی بنا پر اعادہ ہوا ہے تو اس میں شریک ہونا نئے آدمی کا درست ہے، کیوں کہ پہلی نماز باطل ہو گئی اور اگر ترکِ واجب کی وجہ سے اعادہ ہوا ہے تو نئے آدمی کی شرکت درست نہیں، کیوں کہ فرض پہلی نماز سے ادا ہو چکا ہے اور یہ صرف تکمیل ہے:"
المعادة لترك واجب نفل، والفرض سقط بالأولى "طحطاوي
۔ (فتاوی محمودیہ: ٦/٤٤٤، ط: جامعہ فاروقیہ) ۔
(۱۳) فتاوی رحیمیہ میں مرقوم ہے:
الحمد للہ فتاوی رحیمیہ کا جواب صحیح اور مختار قول کے مطابق ہے، حقیقت یہ ہے کہ جو نماز پہلے پڑھی تھی وہ بیکار نہیں گئی، وہ اس درجہ میں قائم رہی کہ فرض ساقط ہو گیا کیوں کہ اس نماز کے سارے ارکان ادا ہو گئے، صرف ایک واجب رہ گیا تھا اس کے فوت ہونے سے نماز میں جو کمی رہی ہے اس کی تکمیل کے لیے اعادہ کا حکم ہے، یہ اعادہ کردہ نماز بمنزلہ سجدۂ سہو ہے جس طرح سجدۂ سہو سے کمی و نقص دور ہوتا ہے اسی طرح نماز کے اعادہ سے بھی نماز کی تکمیل ہوتی ہے، یہ (اعادہ کردہ) نماز اصل اور مستقل فرض نماز نہیں ہے، لہٰذا جو شخص پہلی نماز یعنی جماعتِ اول میں شامل نہ ہو وہ اگر اس دوسری میں شریک ہو گا تو اس کا فرض رہ جائے گا یعنی اس کی اصل نماز ادا نہ ہو گی،
والمختار أن المعادة لترك الواجب نفل جابر والفرض سقط بالأولى. (طحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۱٤٤)،
ہاں البتہ اگر نماز میں کوئی فرض چھوٹ جائے تو نماز فاسد اور باطل ہوتی ہے سجدۂ سہو سے اس کی اصلاح نہیں ہوتی اس کو از سر نو پڑھنا پڑتا ہے اور یہ دوسری نماز بھی فرض اور اصل و مستقل ہی ہوتی ہے، لہٰذا اس میں وہ بھی شامل ہو سکتا ہے جس نے پہلی نماز نہ پڑھی ہو اور اپنا اصل فرض پڑھ رہا ہو ۔ (در مختار مع الشامی: ۱/ ٤۲٦، و فتح القدیر: ۱/۲٦۲، والدرالمنتقی شرح الملتقی: ۱/۸۸) واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۱/۱۹۸، مکتبہ رحیمیہ) ۔
ایک اشکال اور جواب:
بعض فقہاء نے فرمایا ہے کہ فرض دوسری نماز ہے تو اس پر اشکال وارد ہوتا ہے کہ ؛ پہلی نماز فرائض کی ادائیگی کے باوجود باطل ہوئی، اور یہ درست نہیں، یا فرائض کی تکمیل کے بعد بھی ذمہ ساقط نہیں ہوا، اور یہ اصولِ مسلمہ کے خلاف ہے، یا یہ کہ دوسری بھی فرض ہے پہلی کی طرح تو فرض مکرر ہوا، اور یہ بھی صحیح نہیں ۔
قال في الشامية: ولا يلزم من كونها فرضاً عدم سقوط الفرض بالأولى. وفيه أيضاً: لأن القائل أيضاً بأن الفرض هو الثانية أراد به بعد الوقوع وإلا لزم الحكم ببطلان الأولى بترك ما ليس بركن ولا شرط. (۲/٦۵، سعيد)، وقال في الهداية: وإذا أتمها يدخل مع القوم والذي يصلي معهم نافلة لأن الفرض لا يتكرر في وقت واحد. (الهداية: ۷۱)، وقال في الفتح: ويكون جابراً للأول لأن الفرض لا يتكرر وجعله الثاني يقتضي عدم سقوطه بالأول وهو لازم ترك الركن لا الواجب. (فتح القدير: ۱/۳۰۱، دار الفكر).
خلاصہ یہ ہے کہ فرض پہلی نماز سے ساقط ہوا البتہ ترکِ واجب کی تلافی دوسری نماز سے ہوئی ۔
اس مسئلہ کی اچھی تحقیق مفتی رشید احمد فریدی صاحب نے بھی فرمائی ہے، نیز اقتدا صحیح کہنے والوں کے دلائل کے جوابات بھی مرحمت فرمائے ہیں، لہٰذا اس کی طرف مراجعت بھی مفید ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3359
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3359