لاؤڈ اسپیکر پر اذان نہ ہو تو جماعت میں شرکت کا حکم:
Question
بعض ملکوں میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان نہیں دی جاتی تو جس کو اذان سنائی نہ دے اس پر مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز سنتِ مؤکدہ ہو گی یا نہیں؟ نبی ﷺ کے زمانہ میں صحابہ کرام اذان کا انتظار کرتے تھے یا اس سے پہلے ہی گھر سے چل دیتے تھے؟ کیونکہ بعض صحابہ مسجد سے دور رہتے تھے۔
Answer
اذان کا سنائی نہ دینا ترکِ جماعت کے لیے قابل قبول عذر نہیں ہے، بلکہ آج کل نمازوں کے اوقات متعین ہوتے ہیں اور وہ گھڑیوں کے ذریعہ بآسانی معلوم ہو جاتے ہیں، لہذا جو شخص مسجد جانے پر قادر ہو اس کے حق میں مسجد جا کر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنتِ مؤکدہ قریب بہ واجب ہو گا۔
علامہ عینی رحمه الله فرماتے ہیں اذان کے چند مقاصد ہیں؛
ويحصل من الأذان: الإعلام بدخول الوقت والدعاء إلى الجماعة، وإظهار شعائر الإسلام. (عمدة القاري: ٤/۱٤۳، دار الحديث، ملتان).
نیز پرانے زمانہ میں لاؤڈ اسپیکر نہیں ہوتے تھے۔
(۲) بعض احادیث سے پتا چلتا ہے کہ اذان کے بعد کافی وقت دیا جاتا تھا جس میں آدمی آرام سے اپنی ضروریات سے فارغ ہو کر مسجد میں حاضر ہو سکتا تھا۔ حدیث ملاحظہ ہو:
عن جابر رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال لبلال: يا بلال، إذا أذنت فترسل في أذانك، وإذا أقمت فاحدر واجعل بين أذانك وإقامتك قدر ما يفرغ الآكل من أكله، والشارب من شربه، والمعتصر إذا دخل لقضاء حاجته، ولا تقوموا حتى تروني. (سنن الترمذي: ۱/۲٦۸/۱۹۵).
مرقاۃ میں ملا علی قاری رحمه الله فرماتے ہیں:
والظاهر أنه عليه السلام أراد قضاء الحاجة الضرورية العامة التي قد باشرها مريد الصلاة حقيقة أو حكماً غير مختصة بصلاة دون صلاة والمعتصر أي ويفرغ الذي يحتاج إلى الغائط ويعصر بطنه وفرجه
وقيل: هو الحاقن أي الذي يؤذيه البول والغائط إذا دخل أي الخلاء لقضاء حاجته يعني فاصبر حتى يتوضأ المحتاج إلى التأهب للصلاة. (مرقاة المفاتيح: ۲/۱۵٤، باب الأذان، ط: إمداديه، ملتان).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3415
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3415