مسجد میں چندہ وغیرہ کے اعلانات کرنے کا حکم:

10 min readFatwa Vol 9 #92Urdu

Question

کیا مسجد میں کارِ خیر کے لیے بلا مبالغہ چندہ کا اعلان کرنا جائز ہے یا نہیں؟ نیز دیگر اعلانات مثلاً انتقال کی خبر یا نمازِ جنازہ کے وقت کا اعلان، یا مسجد میں منعقد ہونے والے پروگرام کا اعلان کرنا وغیرہ، یہ جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

مسجد میں کارِ خیر کے لیے چندہ کا اعلان بلا مبالغہ درست ہے، نیز انتقال یا نمازِ جنازہ کا اعلان یا مسجد میں منعقد ہونے والے دینی، اصلاحی پروگرام کا اعلان حدودِ شریعت میں رہتے ہوے جائز اور درست ہے، ہاں گمشدہ اشیاء کا اعلان درست نہیں، لیکن گمشدہ بچوں کے اعلان کے بارے میں مفتی خالد سیف اللہ صاحب نے جو از لکھا ہے انسانی جان کی اہمیت کی خاطر، ہاں ان سب میں مسبوق کی نماز میں خلل نہ ہونے کا لحاظ رکھا جائے، باقی بلا ضرورت اعلانات سے پرہیز کرنا چاہیے، اور مسجد کے باہر اعلان بورڈ سے کام چلانا چاہیے ۔
کارِ خیر اور چندہ کے اعلان سے متعلق حدیث شریف ملاحظہ کیجیے:
(۱) نبی پاک ﷺ نے غزوۂ تبوک کے وقت صحابہ کرام سے چندہ کا مسجد میں اعلان فرمایا ۔
ترمذی شریف میں روایت ہے:
عن عبد الرحمن بن خباب قال: شهدت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يحث على جيش العسرة فقام عثمان بن عفان رضي الله عنه فقال: يا رسول الله! علي مائة بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله ثم حض على الجيش فقام عثمان بن عفان رضي الله عنه فقال: يا رسول الله! علي مائتا بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله ثم حض على الجيش فقام عثمان بن عفان رضي الله عنه فقال: يا رسول الله! علي ثلاث مائة بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله فأنا رأيت رسول الله ﷺ ينزل عن المنبر وهو يقول: ما على عثمان ما عمل بعد هذه ما على عثمان رضي الله عنه ما عمل بعد هذه. قال أبو عيسى: هذا حديث غريب من هذا الوجه لا نعرفه إلا من حديث السكن بن المغيرة. (سنن الترمذي، رقم: ۳۷۰۰، باب مناقب عثمان بن عفان رضي الله تعالى عنه، ط: ۵/٦۲۵، ط: دار إحياء التراث العربي، بيروت).

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں مرقوم ہے:
دینی مدارس کے لیے یا اور دینی ضروریات کے لیے مسجد میں اعلان کرنا جائز ہے، آنحضرت ﷺ نے" جیش العسرۃ "کے لیے چندے کا اعلان فرمایا تھا ۔ (۳/۲٦۰) مگر یہ یا د رہے کہ اس اعلان کی وجہ سے کسی نماز ی کی نماز میں خلل نہ پڑے (اس لیے اعلان مختصر ہو اور پر جوش اعلان نہ ہو) ۔ (آپ کے مسائل: ۳/۲٦۱) ۔
(۲) ایک محتاج شخص کی فریاد رسی اور حاجت بر آوری کے لیے مسجد میں دورانِ خطبہ، خطبہ موقوف فرما کر آپ نے چندہ فرمایا؛ ملاحظہ ہو سنن نسائی میں حدیث ہے:

عن عياض بن عبد الله قال: سمعت أبا سعيد الخدري يقول: جاء رجل يوم الجمعة والنبي ﷺ يخطب بهيئة بذة فقال له رسول الله ﷺ أصليت قال: لا قال: صل ركعتين وحث الناس على الصدقة فألقوا ثياباً فأعطاه منها ثوبين فلما كانت الجمعة الثانية جاء ورسول الله ﷺ يخطب فحث الناس على الصدقة قال: فألقى أحد ثوبيه فقال رسول الله ﷺ جاء هذا يوم الجمعة بهيئة بذة فأمرت الناس بالصدقة فألقوا ثياباً فأمرت له منها بثوبين ثم جاء الآن فأمرت الناس بالصدقة فألقى أحدهما فانتهره وقال: خذ ثوبك. (رواه النسائي، رقم: ۱٤۰۸، باب حث الناس على الصدقة يوم الجمعة في الخطبة، ط: مكتبة المطبوعات الإسلامية حلب).
قال في النهر: والمختار أن السائل إن كان لا يمر بين يدي المصلي ولا يتخطى الرقاب ولا يسأل إلحافاً بل لأمر لا بد منه فلا بأس بالسؤال والإعطاء، ومثله في البزازية، وفيها: ولا يجوز الإعطاء إذا لم يكونوا على تلك الصفة المذكورة. (رد المحتار: ۲/۱٦٤، سعيد).

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے: کسی شخص کی ضرورت کے لیے امامِ مسجد کا یا معززین میں سے کسی کا سوال کرنا اور اعلان کرنا درست ہے چنانچہ آپ ﷺ نے بعض ایسے حضرات کے لیے جو مستحق تھے مسجد میں چندہ فرمایا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ان کی اعانت کی ترغیب دی ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۳/۲٦۰، ط: مکتبہ لدھیانوی) ۔
(٤) غزوۂ موتہ میں حضرت جعفر طیار رضي الله عنه، حضرت زید بن حارثہ رضي الله عنه، اور عبداللہ بن رواحہ رضی الله عنه کی شہادت کا اعلان مسجد میں فرمایا، اور آپ کی مبارک آنکھوں سے آنسوؤں کا چشمہ جاری ہوا ۔
مستدرکِ حاکم میں روایت ہے:
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: نعى رسول الله ﷺ أهل موتة على المنبر. (المستدرك، رقم: ۵۲۹٦، ط: دار الكتب العلمية).
وفي رواية البيهقي عنه: قال: نعى رسول الله ﷺ جعفراً، وزيد بن حارثة، وعبد الله بن رواحة وعيناه تذرفان. (السنن الصغرى للبيهقي، رقم: ۱۱۹۱، باب البكاء على الميت).
ہاں مسجد میں گمشدہ چیز کے اعلان سے متعلق حدیث شریف میں ممانعت وارد ہوئی ہے ۔
صحیح مسلم میں روایت ہے:
عن أبي عبد الله، مولى شداد بن الهاد أنه سمع أبا هريرة رضي الله عنه، يقول: قال رسول الله ﷺ: من سمع رجلاً ينشد ضالة في المسجد فليقل لا ردها الله عليك فإن المساجد لم تبن لهذا. (صحيح مسلم ۱: ۳۹۷/۵٦۸).

کتاب الفتاوی میں مرقوم ہے:
اگر مائیک کا کمرہ حدودِ مسجد سے باہر ہو تو گم شدہ چیز یا انسان کے بارے میں اعلان کرنا درست ہے، اور اگر مائیک کی جگہ حدودِ مسجد کے اندر ہو تو اس مائیک سے گم شدہ چیز کا اعلان مکروہ ہے، کیوں کہ آپ نے مسجد میں گم شدہ چیز کے اعلان سے منع فرمایا ہے، البتہ گم شدہ لڑکے یا لڑکی کے اعلان سے چونکہ ایک انسان کی حفاظت کا مسئلہ متعلق ہے اور انسانی جان اور زندگی کی بڑی اہمیت ہے، اس لیے اگر حدودِ مسجد سے باہر اعلان کی سہولت نہ ہو تو اندر بھی اعلان کیا جا سکتا ہے ۔ (کتاب الفتاوی: ٤/۲۵۷) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے عام فائدہ سے متعلق مختصر اعلان کی گنجائش ہے، البتہ مسجد میں خلفشار اور انتشار اور غیر ضروری اعلانات سے احتراز کیا جائے ۔
بعض فتاوی سے مسجد میں اعلان کا عدمِ جواز مترشح ہوتا ہے اس کا جواب:
حضرت مفتی اسماعیل صاحب نے فتاوی دینیہ میں مسجد میں اعلان کرنے سے منع کیا ہے تو دراصل مفتی صاحب کے سوال و جواب پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے غیر ضروری اعلانات کے بارے میں فرمایا ہے ۔ سوال اور جواب ملاحظہ کیجیے: فتاوی دینیہ میں مرقوم ہے:
سوال: مسجد میں جماعت ختم ہوتے ہی یہ اعلان کیا جاتا ہے ۔
(۱) دو روپئے ملے ہیں جس کے ہوں وہ آ کر لے لے (۲) گھڑی ملی ہے جس کی ہو وہ آ کر لے جائے (۳) قبرستان کے گھاس کی نیلامی ہے (٤) مسجد کے غیر ضروری سامان کی نیلامی ہے (۵) تھوڑی دیر تشریف رکھیں، کتابی تعلیم ہو گی ۔ یہ اعلان کیے جاتے ہیں، کیا یہ اعلان مسجد میں کرنا جائز ہے؟ نیز اس وقت مسبوق اپنی چھوٹی ہوئی رکعت پڑھنے میں مشغول ہوتے ہیں، تو شریعت اس مسئلہ میں کیا کہتی ہے؟
الجواب: حامداً و مصلیاً و مسلماً: مسجد اللہ کی عبادت اور ذکر و تلاوت کی پاکیزہ جگہ ہے، لہٰذا وہاں یہی کام ہونے چاہیے ۔ وہاں لغو باتیں اور شور شرابہ کرنا جائز نہیں ہے ۔ نیز مسجد اشیاء کے اشتہار دینے یا اعلان کرنے کی جگہ نہیں ہے، اور جماعت خانہ کے باہر یہ مقصد بخوبی حاصل ہو سکتا ہے ۔ گم شدہ اشیاء کے اعلان سے بھی حدیث شریف میں صاف طور پر منع فرمایا گیا ہے ۔ لہٰذا اس رواج کو بند کرنا چاہیے ۔ اور اگر اعلان کرنا ضروری ہو تو جماعت خانہ سے باہر نماز سے قبل یا بعد میں بھی اعلان ہو سکتا ہے، اور اگر مسبوق کو اس کی وجہ سے تکلیف ہوتی ہو تو ایسا کرنا ناجائز ہے اور ایسا کرنے سے گناہ ہوگا ۔ فقط واللہ تعالی اعلم ۔ (فتاوی دینیہ: ۲/۲۰۹) ۔
سوال و جواب سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ یہ غیر ضروری اعلانات کے بارے میں ہے، ہاں اگر ہر قسم کا اعلان مراد ہو تو تبلیغی جماعت کے پروگرام کے اعلان ہوتے رہتے ہیں اور کسی نے منع نہیں کیا، یا یہ کہ حضرت مفتی صاحب کے جواب کو مبنی بر احتیاط قرار دیں گے ۔ باقی مذکورہ بالا حوالہ جات کی روشنی میں مختصر ضروری اعلانات کی گنجائش ہے ۔ فقط واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.