اوقاتِ نماز وغیرہ کے لیے مسجد میں مانیٹر (اسکرین) رکھنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #136Urdu

Question

مسجد کے اندر منبر کے پاس اوقاتِ نماز اور تاریخ، نیز چاند کی ہیئت وغیرہ بتانے کے لیے اسکرین رکھنا درست ہے یا نہیں؟ یاد رہے کہ اس میں ذی روح کی کوئی تصویر نہیں ہوتی ۔

Answer

نماز کے اوقات یا دیگر ضروریات کے لیے اس اسکرین کے استعمال کرنے کی اجازت ہے جس میں لوگوں کی تصویریں نہ ہوں، البتہ منبر کے قریب رکھنے کی وجہ سے مصلیوں کی نماز میں خلل واقع ہونے کا اندیشہ ہے اس وجہ سے مسجد کے باہر مسجد کے احاطہ میں رکھ کر کام چلانا چاہیے، مسجد شرعی جس میں نماز باجماعت ہوتی ہے اس میں نہیں رکھنا چاہیے ۔ اسلام اور جدید معاشی مسائل میں مرقوم ہے:
یہ ائیرپورٹ پر جو لگے ہوتے ہیں وہ ٹی وی ہی ہوتے ہیں لیکن وہ مانیٹر (Monitor) یا کلوز سرکٹ (Close Circuit) کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، تو یہ اس کا جائز استعمال ہے ۔ (اسلام اور جدید معاشی مسائل: ٤/۱٤)
فقہ المعاملات میں مذکور ہے:
تاہم موجودہ دور میں اس کا جائز استعمال بھی ممکن ہے، مثلاً: یہ کہ اس کو غیر جاندار اشیاء، جیسے عمارتوں، مقامات، پارکوں، سمندروں وغیرہ کی نقل و حرکت یا طلوع و غروب وغیرہ کے مناظر تصاویر دیکھنے کے لیے استعمال کیا جائے یا سامان وغیرہ کی چیکنگ اور ہوائی جہاز وغیرہ کے نظام الاوقات بتلانے اور اعلانات کے لیے استعمال کیا جائے یا دیگر سیکورٹی وغیرہ کے انتظامات میں استعمال کیا جائے (فقہ المعاملات: ۱/۷٦، دار الاشاعت، کراچی) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (جدید فقہی مسائل: ۱/۲۳۷، و فتاوی محمودیہ: ۱٦/۱۲۹، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.