مصلی کے سامنے سے بلا سترہ گزرنے کی ایک ترکیب اور اس کا حکم:
Question
اگر کوئی شخص نماز ی کے سامنے سے گزرنا چاہے اور گزرنا ضروری ہو لیکن کوئی سترہ وغیرہ نہ ہو، تو کیا سامنے کھڑا ہو کر آگے بڑھ کر گزر سکتا ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
نماز ی کے سامنے سے بلا سترہ گزرنا گناہ اور منع ہے لیکن اگر کوئی سترہ نہ ہو اور گزرنا ضروری ہو تو نماز ی کی طرف پشت کر کے کھڑا ہو جائے پھر آگے بڑھ کر چلا جائے ۔
فتح الملہم میں حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمه الله رقم طراز ہیں:
قوله: من أن يمر بين يديه، ظاهر الحديث أن الوعيد المذكور يختص بمن مر، لا بمن وقف عامداً ـ مثلاً ـ بين يدي المصلي، أو قعد، أو رقد، لكن إن كانت العلة فيه التشويش على المصلي فهو في معنى المار، قاله الحافظ رحمه الله في الفتح. (فتح الملهم: ۳/٦۸۵، ط: دار العلوم كراچي). (وكذا في فتح الباري: ۱/۵۸٦).
إعلاء السنن
میں ہے:
وكلام فقهائنا في الفتاوى يفيد جواز الوقوف بين يديه. (إعلاء السنن: ۵/۸۲، ط: إدارة القرآن).
مذکورہ بالا عبارات سے معلوم ہوا کہ نماز ی کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے ۔ نیز دو آدمی گزرنا چاہیں تو ایک نماز ی کے سامنے کھڑا ہو جائے اور دوسرا اس کی آڑ میں گزر جائے پھر پہلا شخص اسی طرح کر لے، اور دونوں گزر جائیں ۔ فتاوی شامی میں مذکور ہے:
ولو مر اثنان يقوم أحدهما أمامه ويمر الآخر ويفعل الآخر هكذا يمران. (فتاوى الشامي: ۱/٦۳٦، سعيد). (وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۱۰٤).
عمدۃ الفقہ میں مرقوم ہے:
اگر دو شخص گزرنا چاہیں تو ان میں سے ایک شخص نماز ی کے سامنے پیٹھ کر کے کھڑا ہو جائے اور دوسرا شخص اس کی آڑ میں گزر جائے پھر پہلا شخص اسی طرح کرے اور دونوں اس طرح گزر جائیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ نماز ی کے آگے بیٹھا ہوا آدمی اُٹھ کر چلا جائے تو مضائقہ نہیں، امداد الفتاوی میں ایسا ہی ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/۲۷٦) ۔
احسن الفتاوی میں لکھا ہے کہ نماز ی کے سامنے بیٹھا ہوا شخص اُٹھ کر جا سکتا ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۳/٤۰۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3366
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3366