نماز ی کے سامنے سے گزرنے کی حد:

3 min readFatwa Vol 9 #155Urdu

Question

ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے اور اس کے سامنے سترہ نہیں ہے اور گزرنا ضروری ہو تو سامنے کتنی جگہ چھوڑ کر گزر سکتے ہیں؟ بینوا توجروا۔

Answer

مسجد کبیر ہو تو مشائخ احناف کے اس بارے میں دو اقوال ہیں؛ ۱۔ سجدہ کی جگہ سے آگے سے گزرنا جائز ہے۔ ۲۔ موضعِ نگاہ، یعنی نماز ی سجدہ کی جگہ نگاہ رکھے تو گزرنے والے کو نہ دیکھ سکے۔ پہلی روایت یعنی سجدے کی جگہ سے آگے سے گزرنا جائز ہے، اس پر حضرت گنگوہی رحمه الله نے فتوی دیا ہے۔
ملاحظہ ہو باقیاتِ فتاوی رشیدیہ میں مرقوم ہے:
جنگل میں سجدہ کی جگہ کو بچا کر نکلنا درست ہے، اور جو مسجد چالیس ہاتھ لمبی اور چالیس ہاتھ چوڑی ہو اس میں بھی ایسا ہی ہے اور اس سے کم مسجد اور گھر میں مطلقاً آگے جانا منع ہے، فقط، واللہ تعالی اعلم ۔ (ص: ۱۵٦)۔
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

و هذا فصل لا ذكر له في الأصل واختلف المشايخ فيه

وبعضهم قالوا: مقدار موضع صلاته وهو موضع قدمه إلى موضع سجوده، وفي الكافي: إنما يأثم إذا مر في موضع سجوده في الأصح لأن هذا من المكان حقه وفي تحريم ما وراء تضييق على المارة، قال الشيخ أبو جعفر: إذا مر في موضع يقع بصر المصلي عليه، وبصره إلى موضع سجوده، فذلك مكروه، وما زاد على ذلك فليس بمكروه، وفي الظهيرية: والمختار ما قاله أبو جعفر. (الفتاوى التاتارخانية: ۱/٦۳۰، إدارة القرآن، كراتشي).
بدائع الصنائع
میں ہے:

واختلف المشايخ فيه، قال بعضهم: قدر موضع السجود، وقال بعضهم: مقدار الصفين، وقال بعضهم: قدر ما يقع بصره على المار لو صلى بخشوع، وفيما وراء ذلك لا يكره وهو الأصح. (بدائع الصنائع: ۱/۲۱۷، سعيد).

فتاوی شامی میں منقول ہے:
قوله بموضع سجوده، أي من موضع قدمه إلى موضع سجوده، كما في الدرر، قوله في الأصح، هو ما اختاره شمس الأئمة وقاضيخان، وصاحب الهداية واستحسنه في المحيط وصححه الزيلعي ومقابله ما صححه التمرتاشي وصاحب البدائع واختاره فخر الإسلام ورجحه في النهاية والفتح، أنه قدر ما يقع بصره على المار لو صلى بخشوع أي رامياً ببصره إلى موضع سجوده. (فتاوى الشامي: ۱/٦۳٤، سعيد).
وللمزيد راجع: (الفتاوى الهندية: ۱/۱۰٤).

حاصل یہ ہے کہ دونوں اقوال کی تصحیح کی گئی ہے ہاں حضرت گنگوہی رحمه الله نے پہلے قول پر فتوی دیا ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.