منبر چھوڑ کر دوسری طرف خطبہ دینے کا حکم:
Question
ایک امام صاحب نے جمعہ کے دن منبر چھوڑ کر دوسری طرف خطبہ دیا، بعض مصلیوں کو اس پر اعتراض ہے، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا منبر چھوڑ کر خطبہ دینا آنحضرت ﷺ کے طریقہ کے موافق ہے؟ نیز جمعہ کے دن منبر پر خطبہ دینا کیسا ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
جمعہ کا خطبہ منبر پر دینا نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین کے عمل کے عین موافق ہے، اور امتِ مسلمہ کا متوارث عمل ہے، بنا بریں امام صاحب کو منبر پر خطبہ دینا چاہیے، بلا کسی عذر کے منبر چھوڑنا خلاف سنت ہے، چنانچہ اکثر علماء کے نزدیک منبر پر خطبہ دینا سنت ہے، ہاں بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہاں سنت بمعنی مستحب ہے پھر عمل متوارث کی وجہ سے مستحب سے اوپر ہے ۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:
باب الخطبة على المنبر؛ وقال أنس رضي الله تعالى عنه، خطب النبي ﷺ على المنبر
(صحيح البخاري: ۱/۱۲۵/۹۱۷، ط: فيصل).
وعن ابن عباس رضي الله عنه قال: كنت أقرئ رجالاً من المهاجرين، منهم عبد الرحمن بن عوف
فلما كان يوم الجمعة عجلت الرواح حين زاغت الشمس، حتى أجد سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل جالساً إلى ركن المنبر، فجلست حوله تمس ركبتي ركبته، فلم أنشب أن خرج عمر بن الخطاب، فلما رأيته مقبلاً قلت لسعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل: ليقولن العشية مقالة لم يقلها منذ استخلف، فأنكر علي وقال: ما عسيت أن يقول ما لم يقل قبله، فجلس عمر على المنبر
(صحيح البخاري: ۲/۱۰۰۹/٦۸۳۰).
شراحِ حدیث اور فقہاء کی عبارات ملاحظہ فرمائیں:
عمدة القاري
میں علامہ عینی رحمه الله فرماتے ہیں:
وفيه: استحباب اتخاذ المنبر لكونه أبلغ في مشاهدة الخطيب والسماع منه
فإن لم يكن منبر فموضع عالٍ، وإلا فإلى خشبة للاتباع فإنه ﷺ كان يخطب إلى جذع قبل اتخاذ المنبر، فلما صنع تحول إليه. (عمدة القاري: ۵/۸۰، دار الحديث، ملتان).
بذل المجهود
میں مرقوم ہے:
فلما بني المنبر يخطب قائماً عليه، وعليه العمل في جميع أمصار المسلمين. (بذل المجهود: ۵/۱۱٦، ط: دار البشائر).
معارف السنن
میں علامہ بنوری رحمه الله فرماتے ہیں:
الخطبة على المنبر مسنونة، ففي رد المحتار عن البحر: ومن السنة أن يخطب عليه، أي على المنبر، اقتداء به ﷺ. (معارف السنن: ٤/۳۵۹، ط: سعيد).
فتاوی شامی میں مرقوم ہے:
ومن السنة أن يخطب عليه اقتداء به ﷺ. (فتاوى الشامي: ۲/۱٦۱، ط: سعيد).
وفي الفتاوى الهندية: ومن السنة أن يكون الخطيب على منبر اقتداء برسول الله ﷺ. (الفتاوى الهندية: ۱/۱٤۷).
منبر پر خطبہ دینے کو علماء نے عمل متوارث قرار دیا ہے اور عمل متوارث کا ترک مکروہ ہے ۔ چنانچہ فقہاء فرماتے ہیں اذان میں استقبالِ قبلہ سنت اور عمل متوارث ہے اور اس کا ترک مکروہ ہے ۔ ملاحظہ ہو تبیین الحقائق میں مذکور ہے:
ولو ترك الاستقبال جاز لحصول المقصود وهو الإعلام ويكره لتركه المتوارث. (تبيين الحقائق: ۱/۹۱، إمداديه).
عمامہ یا ٹوپی پہن کر نماز پڑھنا سنت اور عمل متوارث ہے اور کھلے سر نماز مکروہ ہے ۔ مقالاتِ کوثری میں ہے:
أما صلاة المصلي وهو حاسر الرأس من غير عذر فصحيحة إذا كان مستجمعة للشروط والأركان، لكنها خلاف السنة المتوارثة والعمل المتوارث في كل بقعة من بقاع المسلمين على توالي القرون
فتكره صلاته وهو حاسر الرأس. (مقالات الامام الكوثري، ص ۱۷۰، ۱۷۱، ط: دار شمسي، كراتشي).
اکابرین کے فتاوی ملاحظہ کیجیے: فتاوی دار العلوم دیوبند میں مرقوم ہے:
خطبہ منبر پر پڑھنا سنت ہے فرض اور واجب نہیں ہے اگر بلا کسی عذر کے خطیب نے نیچے کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا تو اس نے خلاف سنت کیا اور ترکِ سنت کی وجہ سے مستحق ملامت ہوا ۔
كما في الدر المختار: وحكمها أي السنة ما يؤجر على فعله ويلام على تركه، الخ
(
فتاوی دار العلوم دیوبند: ۵/۱۲٦، مدلل مکمل، ط: دار الاشاعت)
احسن الفتاوی میں مرقوم ہے:
منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھنا سنت ہے ۔ حضور ﷺ اور حضراتِ خلفاء رضی اللہ تعالی عنہم کا یہی معمول تھا ۔ بحوالہ شامی ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۱۲۵، ط: سعيد) ۔
امداد المفتین میں مرقوم ہے:
آنحضرت ﷺ کے منبر کی تین ہی سیڑھی تھیں اس لیے اب بھی ایسا بنانا مسنون ہے آنحضرت ﷺ تیسری سیڑھی پر کھڑے ہوتے تھے ۔ پھر صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ اپنے زمانہ خلافت میں بوجہ ادب کے اس سے نیچے دوسری پر کھڑے ہوتے تھے ۔ پھر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے ادب کی وجہ سے سب سے نیچے کی سیڑھی اختیار کی لیکن حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد پھر یہی دستور ہو گیا کہ اوپر کی سیڑھی پر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے اور یہی اولی ہے اور کوئی نیچے ہی کی سیڑھی پر کھڑا ہو جائے تو بھی کسی قسم کی کراہت نہیں کیوں کہ وہی خلفائے راشدین کا عمل ہے ۔ (امداد المفتین، جلد دوم، ص ۳۲۲، ط: دار الاشاعت) ۔
فتاوی حقانیہ میں مذکور ہے:
منبر پر خطبہ دینا سنتِ نبوی ہے اس کے بغیر خطبہ دینا خلاف سنت ہے
(
فتاوی حقانیہ: ۳/۳۸٦) ۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: (اشرف الاحکام، ص ۱٦۹، و خیر الفتاوی: ۳/۱۱٤، و فتاوی دار العلوم دیوبند: ۵/۱۱٤، ط: دار الاشاعت، و مجموعۃ الفتاوی: ۱/٤۱۱، ط: میر محمد کتب خانہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم 0
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3378
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3378