ایک نماز چھوڑ کر دوسری نماز میں منتقل ہونے کے لیے تحریمہ لازم ہونے کا حکم:
Question
ایک شخص ظہر کے وقت نفل پڑھ رہا تھا کہ، پہلی رکعت کے قیام میں نیت تبدیل کر کے ظہر کی سنتِ مؤکدہ قبلیہ کی نیت کر لی تو کیا سنتِ مؤکدہ ادا ہوئی یا نفل؟ بینوا توجروا ۔
Answer
فقہاء کی عبارات سے واضح ہوتا ہے کہ ایک نماز کو درمیان سے چھوڑ کر دوسری نماز کی طرف منتقل ہونے کے لیے نئی تحریمہ لازم ہے، اس کے بغیر پہلی نماز منقطع نہیں ہو گی، جب کہ پہلی نماز دوسری کے مغایر ہو، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں اس کی پہلی نفل نماز بدستور باقی رہے گی، الا یہ کہ نفل ختم کر کے سنتِ مؤکدہ کی تحریمہ از سر نو شروع کرے تو سنت ادا ہو گی ۔ اور اگر فرض نماز مکمل کر کے سلام پھیرے اور نئی تحریمہ کے بغیر نفل شروع کرے تو یہ صورت مکروہ ہونے کے باوجود صحیح ہے، جس کی تشریح آ رہی ہے ۔
ملاحظہ ہو صاحب ہدایہ رحمه الله فرماتے ہیں:
ومن صلى ركعة من الظهر ثم افتتح العصر أو التطوع فقد نقض الظهر لأنه صح شروعه في غيره فيخرج عنه. (الهداية: ۱/۱۳۷، باب ما يفسد الصلاة).
قال في البناية: وفي جامع التمرتاشي، وشمس الأئمة: وعلى هذا من كان في المكتوبة وكبر ينوي النافلة أو على العكس أو في الظهر فكبر ينوي الجمعة أو على العكس أو كان منفرداً فكبر ينوي الاقتداء أو مقتديا فكبر للتفرد أو للإمامة يخرج عن صلاته. (البناية في شرح الهداية: ۲/۵۰۱، رشيدية). وكذا في فتح القدير: ۱/٤۰۲، ط: دار الفكر).
وفي حلبة المجلي: [م] وهذا كله إذا نوى بقلبه وكبر بلسانه، [ش] سواء ذكر النية بلسانه أيضاً، أو لا، وأما مجرد النية بالقلب من غير تكبير باللسان، فغير مخرج من الأولى. (حلبة المجلي شرح منية المصلي، ص ٦۷۳، ط: بيروت).
وفي الفتاوى الهندية: ولو افتتح الظهر ثم نوى التطوع أو العصر أو الفائتة أو الجنازة وكبر يخرج عن الأول ويشرع في الثاني والنية بدون التكبير ليس مخرج، كذا في التتارخانية ناقلاً عن العتابية. (الفتاوى الهندية: ۱/٦٦).
وفي الأشباه: وأما إذا نوى عبادة ثم نوى في أثنائها الانتقال عنها إلى غيرها، فإن كبر ناوياً للانتقال عنها إلى غيرها صار خارجاً عن الأولى، وإن نوى ولم يكبر لا يكون خارجاً
(الأشباه والنظائر: ۱/۱٤۸، ط: إدارة القرآن).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
رجل افتتح المكتوبة فظن أنها تطوع فصلى على نية التطوع حتى فرغ فالصلاة هي المكتوبة، ولو كان الأمر بالعكس فالجواب بالعكس، هكذا في فتاوى قاضيخان
والنية بدون التكبير ليس بمخرج كذا في التتارخانية. (الفتاوى الهندية: ۱/٦٦). (وكذا في الفقه الحنفي في ثوبه الجديد: ۱/۲۰۱، وفتاوى الشامي: ۱/٤۱۸، والبحر الرائق: ۱/۲۸۱).
عمدۃ الفقہ میں مرقوم ہے: کسی نے فرض نماز شروع کی پھر اس کو یہ گمان ہوا کہ نفل پڑھتا ہوں اور نفل کی نیت پر نماز پوری کر لی تو وہ نماز فرض ادا ہوئی اور اگر اس کے برعکس ہوا تو جواب بھی برعکس ہوگا، کیوں کہ شروع کرتے وقت کی نیت کا اعتبار ہوتا ہے بعد کا نہیں جب تک کہ پہلی نیت توڑ کر اور اللہ اکبر کہہ کر دوسری نیت نہ باندھے ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/۷۷) ۔ مزید ملاحظہ ہو : (کتاب الفتاوی: ۲/۱٦۵) ۔
بعض کتبِ فقہ سے پتا چلتا ہے کہ بلا تکبیر فقط نیت کرنے سے دوسری نماز میں منتقل ہو جائے گا ۔ ملاحظہ ہو :
علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله نے الاشباہ میں بحوالہ خزانۃ الاکمل ذکر کیا ہے،
قال: وفي خزانة الأكمل: لو افتتح الصلاة بنية الفرض ثم غير نيته في الصلاة، وجعلها تطوعاً صارت تطوعاً. (الأشباه والنظائر: ۱/۱۷۱).
بعض شراح نے اس کی یہ توجیہ بیان فرمائی ہے کہ ممکن ہے کہ اختلافِ روایت ہو: ایک روایت یہ ہے کہ محض نیت سے انتقال نہیں ہوگا، تا آں کہ تکبیر نہ کہہ لی جائے اور دوسری روایت یہ ہے کہ محض نیت سے بھی انتقال ہو جاتا ہے، راجح پہلی روایت ہے اور یہ دوسری روایت مرجوح ہے ۔ (عقود الجواہر شرح الاشباه و النظائر: ۱/٤٦۳) ۔
معلوم ہوا کہ راجح یہ ہے کہ نئی تحریمہ ضروری ہے، جب کہ علامہ شامی رحمه الله نے شرح الاشباہ میں نئی تحریمہ پر محمول کیا ہے یعنی اختلافِ روایت پر محمول نہیں کیا :
قال: ثم غير نيته، يعني مع التحريمة المبتدئة فلا يخالف ما قبله. (نزهة النواظر، ص ۵۳، دار الفكر).
نیز علامہ ابن نجیم کی ما قبل کی عبارت سے بھی مترشح ہوتا ہے کہ بلا نئی تحریمہ دوسری نماز شروع کرنا صحیح نہیں ہوگا، نیز دوسری جگہ بھی مذکور ہے: چنانچہ فرماتے ہیں:
ولو نوى الانتقال عنها إلى غيرها، فإن كانت الثانية غير الأولى وشرع بالتكبير صار منتقلاً وإلا فلا. (الأشباه والنظائر ۱/۷۲، وكذا في: ۱/۱۷۲).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
تنبیہ: جلدِ دوم ص ۱۳۱ پر ایک مسئلہ کے تحت ہم نے یہ لکھا تھا کہ فرض نماز شروع کرنے کے بعد سنت کی نیت کر لی تو بلا نئی تحریمہ سنت شروع کرناکراہت کے ساتھ جائز ہے، جیسا کہ بحوالہ " الاشباہ " خزانۃ الاکمل کی عبارت مذکور ہوئی لیکن یہ مرجوح ہے یا مؤول ہے ۔ راجح اور صحیح قول یہ ہے کہ نئی تحریمہ کے بغیر دوسری نماز میں منتقل نہ ہوگا، پہلی نماز بدستور باقی رہے گی، جیسا کہ مذکورہ بالا کتبِ فقہ میں مصرح ہے، یا اس کی تاویل یہ ہے کہ شروع کر کے نماز مکمل کرے پھر نفل شروع کرے ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3438
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3438