جمعہ کی دوسری جماعت میں پہلا خطیب ہو اور دوسرا امام ہو تو نماز کا حکم:
Question
اسپین میں ایک مصلے میں جگہ کی تنگی اور لوگوں کی کثرت کی وجہ سے دو دفعہ جمعہ کی نماز ہوتی ہے کیوں کہ ایک ساتھ پڑھنے کی گنجائش نہیں ہے، اب سوال یہ ہے کہ پہلی جماعت کو ایک امام نے خطبہ اور نماز پڑھائی اب وہی امام دوسری جماعت کو صرف خطبہ پڑھائے اور نماز دوسرا امام پڑھائے جس نے پہلی جماعت میں شرکت نہیں کی تھی تو کیا نماز صحیح ہو گی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
صحتِ جمعہ کے لیے خطیب پر جمعہ کا فرض ہونا شرط نہیں، اگر نابالغ بچہ بھی خطبہ دے دے اور بالغ امامت کرائے تو نمازِ جمعہ صحیح ہو جائے گی، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں بھی نماز صحیح اور درست ہو گئی ۔ لیکن ہمیشہ ایسا نہیں کرنا چاہیے دوسری جماعت کے لیے جو امام ہو اسی کو خطبہ بھی دینا چاہیے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:
خطب صبي بإذن السلطان وصلى بالغ جاز كذا في الخلاصة. (۲/۱٤۱، سعيد).
وقال في الدر المختار: وهو المختار، وقال الشامي: والأكثر على الجواز. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۱٦۲، سعيد).
وقال في مجمع الأنهر: ولا ينبغي أن يصلي غير الخطيب لأن الجمعة مع الخطبة كشيء واحد فإن فعل بأن خطب صبي بإذن السلطان وصلي بالغ جاز. (مجمع الأنهر: ۱/۱۷۲، ط: كوئته). وكذا في حاشية الطحطاوي (۱/۵۰۸) وزاد فيه: لكن الأولى الاتحاد كما في شرح الآثار. (وكذا في خلاصة الفتاوى: ۱/۲۰۵).
احسن الفتاوی میں مذکور ہے: اس بارے میں صریح جزئیہ نہیں ملا، البتہ چونکہ صحتِ خطبہ کے لیے شرط نہیں ہے کہ خطیب پر جمعہ فرض ہو، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا شخص خطبہ پڑھ سکتا ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۱۲۸) ۔
فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے:
صراحۃً کہیں یہ جزئیہ نہیں دیکھا اتنا ضرور لکھتے ہیں کہ خطیب و امام کا ایک ہی شخص ہونا ضروری نہیں، البتہ اولی یہ ہے کہ جو شخص خطبہ پڑھے وہی جمعہ پڑھائے، ساتھ میں یہ بھی ہے کہ اگر نابالغ لڑکے نے خطبہ پڑھا اور بالغ نے جمعہ پڑھایا تب بھی جمعہ ادا ہو جائے گا، کیوں کہ جو شخص جمعہ ادا کر چکا ہے اب اس کے ذمہ جمعہ نہیں رہا، وہ اگر کسی دوسری مسجد میں جمعہ میں شریک ہو جائے گا تو اس کے حق میں یہ نماز نفل ہو گی جیسے کہ نابالغ کے حق میں اور نابالغ کا خطبہ پڑھنا بھی جوازِ جمعہ کے لیے کافی ہے تو اس طرح سے بظاہر اس کا جمعہ پڑھنا بھی کافی ہو جائے گا ۔ (فتاوی محمودیہ: ۸/۲٦۸، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3399
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3399