ایک امام کا نمازِ جمعہ میں دو مرتبہ دو مختلف جماعت کی امامت کا حکم:
Question
ایک مسجد میں جمعہ کی نماز دو مرتبہ جماعت سے پڑھی جاتی ہے اور ایک ہی امام دونوں مرتبہ امامت کرتا ہے، کیا اس صورت میں دوسری جماعت کی نماز صحیح ہو گی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
احناف کے نزدیک امام کی پہلی نماز سے فرض ادا ہو چکا، اب دوسری نماز نفل ہے تو نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض پڑھنے والے کی اقتدا درست نہیں ہو گی، لہٰذا دوسری جماعت کی نماز نہیں ہوئی ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں مرقوم ہے:
و لا يصلي المفترض خلف المتنفل لأن الاقتداء بناء ووصف الفرضية معدوم في حق الإمام فلا يتحقق البناء على المعدوم. (الهداية: ۱/۵۸، ط: المكتبة الإسلامية). (وكذا في الجوهرة النيرة: ۱/۷۳).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3398
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3398