وتر پڑھنے والے کے پیچھے تراویح کی نیت سے اقتدا کرنے سے وتر کا حکم:
Question
ایک شخص مسجد میں ایسے وقت پہنچا کہ وتر کی جماعت چل رہی تھی اس نے سوچا کہ تراویح کی نماز ہے، تو تراویح کی نیت سے شریک ہو گیا، جب امام تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوا تب معلوم ہوا کہ یہ وتر کی نماز ہے، تو اب اس شخص کی وتر کی نماز ہوئی یا نہیں؟ یاد رہے یہ شخص فرض پڑھ چکا تھا ۔
Answer
شخص مذکور کی وتر کی نماز نہیں ہوئی، پس اس کو چاہیے کہ ایک اور رکعت ملا دے اور یہ چار رکعتیں نفل ہو جائیں گی، اور وتر دوبارہ پڑھ لے ۔ ملاحظہ ہو شرح المنیہ میں مذکور ہے:
اقتدى به على ظن أن الإمام يصلي التراويح فإذا هو في الوتر يتمه معه ويضم رابعة ولو أفسدها لا شيء عليه. (غنية المتملي في شرح منية المصلي، ص: ٤۱۰، ط: سهيل اكيڈمي).
فتاوی رحیمیہ میں منقول ہے:
صورتِ مسئولہ میں امام کے سلام پھیرنے کے بعد چوتھی رکعت شامل کر کے نماز کو تمام کرے اور یہ چار رکعت نفل ہو جائیں گی، وتر ابھی ذمہ باقی رہیں گے ان کو ادا کرنا ہوگا ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۳/۳۰۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3363
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3363