نماز میں "صدق الله العظيم "پڑھنے سے نماز کا حکم:
Question
اگر کوئی شخص نماز میں صدق اللہ العظیم پڑھ لے تو نماز فاسد ہو گی یا نہیں؟ نیز فرض اور نفل میں کوئی فرق ہو گا یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
Answer
صدق اللہ العظیم کے الفاظ میں اللہ تعالی کی تعظیم اور ثنا کا پہلو غالب ہے، نیز کلام اللہ کی تصدیق ہے، پھر اس سے جواب دینا مقصود نہیں ہوتا اور نہ کلام الناس کے مشابہ ہے، بنا بریں نماز فاسد نہیں ہو گی۔ اور مفسداتِ نماز میں فرض و نفل کا کوئی فرق نہیں۔
اس مسئلہ کے چند نظائر حسبِ ذیل ہیں: جب امام قنوتِ نازلہ میں:
اللهم اهدنا فيمن هديت وعافنا فيمن عافيت،
کسی مصیبت کے وقت جہراً پڑھتا ہو تو مقتدی آہستہ آواز سے آمین کہہ سکتا ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
والذي يظهر لي أن المقتدي يتابع إمامه إلا إذا جهر فيؤمن. (فتاوى الشامي: ۲/۱۱، سعيد).
اس سے معلوم ہوا کہ صدق اللہ العظیم کہنے سے نماز فاسد نہیں ہوئی۔
نیز امام کی سورۂ فاتحہ ختم ہونے پر مقتدی آمین کہتا ہے، یعنی اے اللہ امام کی دعا قبول فرما لے، اور اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔
نیز نماز میں سورۂ قیامہ کے اختتام پر
سبحانك بلي
، کہنا ثابت ہے، اس سے بھی نماز میں فساد نہیں آتا۔
عن موسى بن أبي عائشة قال: كان رجل يصلي فوق بيته، وكان إذا قرأ: أليس ذلك بقادر على أن يحيي الموتى، قال: سبحانك فبلى، فسألوه عن ذلك، فقال: سمعته من رسول الله ﷺ، قال أبو داود: قال أحمد: يعجبني في الفريضة أن يدعو بما في القرآن. (سنن أبي داود: ۱/۱۲۸، فيصل).
چند سورتوں کے آخر میں استفہامی جملے مذکور ہیں، حدیث شریف میں ان کے بعد بطورِ جواب الفاظ وارد ہوے ہیں، حضرت گنگوہی رحمه الله نے ان کے بارے میں فرمایا کہ نماز میں نہیں کہنا چاہیے، نماز میں فقط قرآن پڑھنے پر اکتفاء کرنا چاہیے، لیکن اگر کسی نے نماز میں اس پر عمل کر کیا تب بھی نماز فاسد نہ ہو گی۔
پہلے حدیث شریف ملاحظہ کیجیے:
عن إسماعيل بن أمية سمعت أعرابياً يقول: سمعت أبا هريرة رضي الله عنه يقول: قال رسول الله ﷺ: من قرأ منكم ﴿والتين والزيتون﴾ فانتهى إلى آخرها ﴿أليس الله بأحكم الحاكمين﴾ فليقل: بلى وإنا على ذلك من الشاهدين، ومن قرأ ﴿والمرسلات﴾ فبلغ: ﴿فبأي حديث بعده يؤمنون﴾، فليقل: آمنا بالله، قال إسماعيل: ذهبت أعيد على الرجل الأعرابي، وأنظر لعله، فقال: يا ابن أخي، أتظن أني لم أحفظه، لقد حججت ستين حجة، ما منها حجة إلا وأناْ أعرف البعير الذي حججت عليه. (سنن أبي داود: ۱/۱۲۹، فيصل).
حضرت گنگوہی رحمه الله کی عبارت ملاحظہ فرمائیے:
يعني هذه الأجوبة بعد السور محمولة عند الجمهور على النوافل أو على خارج الصلاة لا المكتوبة
قلت: وعلله في هامش" إعلاء السنن "بأن هذه الأحاديث ليست بنصة في الصلاة، بل محتملة لداخلها وخارجها، والاحتمال يبطل الاستدلال، والأصل تجريد القراءة عن غير القرآن، في الصلاة، فلا يتحول عنه إلا بدليل، ولو عمل أحد في الصلاة لا تفسد، انتهى. (الكوكب الدري على جامع الترمذي: ٤/۳۲۲).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3413
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3413