نماز میں نبی کے نام کے ساتھ" ﷺ "پڑھنے سے نماز کا حکم:
Question
ایک امام صاحب نے فجر کی نماز میں یوں قراءت پڑھی:"
لقد كان لكم في رسول الله ﷺ أسوة حسنة "
کیا نماز ہوئی یا نہیں؟ اور اگر نماز صحیح ہو تو ایسا پڑھنا مکروہ ہو گا یا نامناسب؟ بینوا توجروا۔
Answer
نماز میں قراءت کے درمیان نبی ﷺ کے مبارک نام کے ساتھ ﷺ پڑھنے سے نماز فاسد نہیں ہو گی، کیوں کہ یہ نہ تو جوابی جملہ ہے اور نہ کلام الناس کے مشابہ ہے، ہاں چونکہ نماز کی حالتِ قیام میں قرآن کے علاوہ دوسری چیز نہیں ہونی چاہیے، اس اعتبار سے نماز میں نبی کے نام کے ساتھ ﷺ کا پڑھنا مکروہ یعنی خلاف اولی ہو گا۔
اِس مسئلہ کے دلائل ما قبل" صدق اللہ العظیم" والے مسئلے کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔ فقط حضرت گنگوہی رحمه الله کی ایک عبارت پر اکتفاء کیا جاتا ہے:
والأصل تجريد القراءة عن غير القرآن، في الصلاة، فلا يتحول عنه إلا بدليل، ولو عمل أحد في الصلاة لا تفسد، انتهى. (الكوكب الدري على جامع الترمذي: ٤/۳۲۲).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3414
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3414