قاری کا امی کی اقتدا کرنے سے فسادِ نماز کا حکم:
Question
امام صاحب کو ایک مرتبہ آنے میں تاخیر ہو گئی، مقتدیوں نے سوچا، نہیں آئیں گے، ان میں سے ایک آگے بڑھ گیا لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی قرآن پڑھنا نہیں جانتا تھا، امام صاحب آ گئے اور اس امی کی اقتدا کر لی، تو اب نماز صحیح ہوئی یا نہیں؟ اگر فاسد ہوئی تو کس کی؟ فقط امام صاحب کی یا تمام مقتدیوں کی؟
Answer
فقہ کی اصطلاح میں امی اس کو کہتے ہیں جس کو اتنا قرآن بھی یاد نہ ہو جس سے نماز صحیح ہو جاتی ہے، اور عوام اس کو امی کہتے ہیں جو عالم نہ ہو، تو بصورتِ مسئولہ اگر امی کو اتنا قرآن یاد تھا جس سے نماز صحیح ہو جاتی ہے تو قاری صاحب سمیت تمام کی نماز صحیح ہو گئی، اور غالب گمان یہی ہے کہ کچھ سورتیں ضرور یاد ہوں گی۔
لیکن اگر وہ شخص حقیقی معنی میں امی تھا، کچھ بھی یاد نہیں تھا تو امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک امام صاحب سمیت سب کی نماز فاسد ہو جائے گی، یہی ظاہر الروایہ ہے اور اکثر مشائخ نے اسی پر فتوی دیا ہے۔
ہاں صاحبین رحمه الله کے نزدیک فقط امام صاحب کی نماز فاسد ہو گی باقی سب امیوں کی نماز صحیح ہو جائے گی۔ اور امام ابو الحسن الکرخی رحمه الله فرماتے ہیں کسی کی نماز فاسد نہ ہو گی۔ دلائل ملاحظہ فرمائیں: امام محمد رحمه الله مبسوط میں فرماتے ہیں:
باب صلاة الأمي: قلت: أرأيت رجلاً أمياً صلى بقوم أميين وفيهم من يقرأ وفيهم من لا يقرأ قال: صلاتهم فاسدة وهو قول أبي حنيفة رحمه الله وقال محمد صلاة من يقرأ فاسدة وصلاة من لا يقرأ تامة وهو قول أبي يوسف رحمه الله. (المبسوط: ۱/۱۸۵، ط: إدارة القرآن، كراتشي).
وللمزيد راجع: (الجامع الصغير، ص ۹۵، والهداية: ۱/۸۸، والدر المختار مع رد المحتار: ۱/۵۵٤، سعيد، والجوهرة النيرة: ۱/۷۲، ط: ملتان).
علامہ شامی رحمه الله نے فرمایا ہے کہ عبادات میں مطلقاً امام صاحب رحمه الله کے قول پر فتوی ہوگا۔
قال: في كل العبادات رجح. قول الإمام مطلقاً مالم تصح عنه، رواية بها الغير أخذ. مثل تيمم لمن تمراً نبذ. (رسم المفتي، ص).
القول الراجح
میں امام صاحب رحمه الله کے قول کی ترجیح نقل کی گئی ہے۔ عبارت ملاحظہ ہو:
القول الراجح؛ هو قول أبي حنيفة رحمه الله، قال العلامة طاهر بن عبد الرشيد البخاري، واختلف المشايخ على قول أبي حنيفة رحمه الله والأصح أنه تفسد صلاتهم، وقال العلامة قاضي خان: ولا يصح اقتداء أمي وقارئ بأمي ولا بأخرس، وقال العلامة الحصكفي: وإذا اقتدي أمي وقارئ بأمي، تفسد صلاة الكل للقدرة على القراءة بالاقتداء بالقارئ سواء علم به أو لا، نواه أو لا، وقال العلامة ابن عابدين، تحت قوله على المذهب: وجهه أن الفرائض لا يختلف فيها الحال بين العلم والجهل، بحر، وإذا لم يشترط العلم فالنية أولى، زيلعي، وهكذا في البحر والتبيين والهندية. (القول الراجح: ۱/۹٤).
امام کرخی رحمه الله کا قول ملاحظہ فرمائیں:
قال العلامة العيني رحمه الله في البناية: وفي المحيط: ذكر الكرخي في مختصره، لو اقتدى القارئ بالأمي، ولم ينو إمامته لا تفسد صلاته، لأنه يلحقه فساد صلاته من جهة القارئ فلا بد من التزامه كالمرأة، وقيل: تفسد وإن لم ينو إمامته. (البناية: ۲/٤٤۲، ط: رشيديه).
فتاوی دار العلوم دیوبند میں مذکور ہے:
سوال: ایک توتلا آدمی نماز پڑھا رہا تھا اس کے پیچھے کئی ایک آدمی مقتدی تھے، بعد ایک رکعت ایک عالم نماز پڑھنے کی غرض سے آیا وہ نماز مین شریک ہو یا نہ ہو؟ اگر شریک ہو گیا تو سب لوگوں کی نماز تو باطل نہ ہو جاوے گی اور عالم کی نماز توتلے کے پیچھے صحیح ہو گی یا نہیں؟
الجواب: وہ عالم جو بعد میں آیا اگر اپنی نماز علیحدہ پڑھے تو اس کی نماز بھی صحیح ہو گی، اور جو امی پہلے سے نماز پڑھ رہے تھے ان کی بھی نماز صحیح ہو گی، اور اگر وہ عالم امی مذکور کے پیچھے اقتدا کرے گا تو پھر کسی کی نماز بھی صحیح نہ ہو گی نہ اس عالم کی، نہ ان امیوں کی جو پہلے سے پڑھ رہے تھے، چنانچہ عبارتِ در مختار:
وإذا اقتدى وقارئ بأمي تفسد صلاة الكل
اس کو شامل ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۳/۱۱۱، دار الاشاعت)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3423
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3423