رکوع میں شرکت کے لیے تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #162Urdu

Question

اگر کوئی آدمی نماز میں ایسے وقت پہنچے کہ امام رکوع میں ہے، تو کیا تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھ لے پھر تکبیر کہہ کر رکوع میں جائے یا بلا ہاتھ باندھے رکوع میں چلا جائے؟ افضل کیا ہے؟

Answer

افضل یہ ہے کہ تحریمہ کے بعد تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھے بغیر رکوع میں چلا جائے، لیکن تکبیر تحریمہ حالتِ قیام میں اطمینان سے کہے، اگر تحریمہ جھکتے ہوئے کہی تو تحریمہ صحیح نہ ہو گی، غالباً اسی وجہ سے عام معمول یہ ہے کہ تحریمہ کے بعد بقدرِ تسبیحہ ہاتھ باندھ لیتے ہیں پھر تکبیر کہتے ہوئے رکوع میں جاتے ہیں تاکہ بالیقین تحریمہ ادا ہو جائے اور کوئی شک باقی نہ رہے، یہی احوط طریقہ ہے۔

قال في الهداية: الأصل أن كل قيام فيه ذكر مسنون يعتمد فيه وما لا فلا هو الصحيح فيعتمد في حالة القنوت وصلاة الجنازة ويرسل في القومة وبين تكبيرات الأعياد. (الهداية: ٤۸، المكتبة الإسلامية).
وفي فتاوى الشامي: ومقتضاه أنه يعتمد أيضاً في صلاة التسابيح ثم رأيته ذكره ط، والرحمتي والسائحاني بحثاً قوله ما لم يطل القيام فيضع، أي فإن أطاله لكثرة القوم فإنه يضع وهذا مبني على أن الأصل أنه سنة قيام له قرار لا على أنه سنة قيام فيه ذكر مسنون. (فتاوى الشامي: ۱/٤۸۸، سعيد).
وللاستزادة راجع: (الدر المختار مع رد المحتار: ۱/٤۸۸، سعيد، وفتح القدير: ۱/۲۸۸، دار الفكر والمحيط البرهاني: ۲/۲۱، ط: دار إحياء التراث العربي).

عمدۃ الفقہ میں مرقوم ہے:
جس قیام میں ذکر مسنون یعنی مشروع ہے خواہ وہ ذکر فرض ہو یا واجب یا سنت اس میں ہاتھ باندھنا سنت ہے جیسے ثنا و قنوت و نمازِ جنازہ اور جس قیام میں ذکر مشروع نہیں جیسے عیدین کی تکبیریں وہاں ہاتھ چھوڑنا سنت ہے یہی صحیح ہے، رکوع کے بعد قومہ میں بالاتفاق ہاتھ چھوڑ دے اس لیے کہ اس میں ذکر مشروع تبدیل رکن کے لیے ہے نہ کہ قومہ کے لیے۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/۱۰۳)۔
جھکتے ہوئے تکبیر کہنے سے تحریمہ صحیح نہ ہو گی۔
قال في الدر المختار: أدرك الإمام راكعاً فقال: الله قائماً وأكبر راكعاً لم يصح في الأصح

ويشترط كونه قائماً فلو وجد الإمام راكعاً فكبر منحنياً إن إلى القيام أقرب صح. وفي الشامي: قوله قائماً، أي حقيقة وهو الانتصاب أو حكماً وهو الانحناء القليل بأن لا تنال يداه ركبتيه، قوله في الأصح، أي بناء على ظاهر الرواية. (الدر المختار مع رد المحتار: ۱/٤۸۰، سعيد).

فتاوی محمودیہ میں مذکور ہے:
اگر تکبیر تحریمہ کھڑے ہو کر نہیں کہی بلکہ اس طرح جھکتے ہوئے کہی ہے کہ رکوع میں تکبیر پوری ہوئی تو اس کی نماز صحیح نہیں ہوئی۔ (فتاوی محمودیہ: ۵/۵٤۳، جامعہ فاروقیہ)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.