جنازہ گاہ میں عید کی نماز پڑھنے سے عید گاہ کی سنت کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #189Urdu

Question

اگر جنازہ گاہ میں عید کی نماز پڑھی جائے تو عید گاہ کی سنت ادا ہو جائے گی یا نہیں؟

Answer

مسجد کو چھوڑ کر میدان میں عید کی نماز پڑھنا سنت ہے، اور عام طور پر جنازہ گاہ اور قبرستان شہر سے باہر مستقل الگ جگہ پر ہوتے ہیں، بنابریں جنازہ گاہ میں عید کی نماز پڑھنے سے عید گاہ کی سنت ادا ہو جائے گی۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں نماز جنازہ کے لیے اور عیدین کے لیے مصلی کا لفظ آتا ہے ؛

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ، نعى النجاشي في اليوم الذي مات فيه وخرج بهم إلى المصلى فصف بهم وكبر عليه أربع تكبيرات. (رواه البخاري، رقم: ۱۳۳۳).

فلما قدمت أم عطية سألتها أسمعت النبي ﷺ قالت: بأبي نعم وكانت لا تذكره إلا قالت: بأبي سمعته يقول: يخرج العواتق وذوات الخدور والحيض وليشهدن الخير ودعوة المؤمنين ويعتزل الحيض المصلى قالت حفصة: فقلت: الحيض فقالت: أليس تشهد عرفة وكذا وكذا. (رواه البخاري، رقم: ۳۲٤، باب شهود الحائض العيدين).
قال ابن دقيق العيد: وفيه إشارة إلى أن البروز إلى المصلى هو سنة العيد. (إحكام الأحكام، ص ۲۳۳، باب العيدين). قال العيني رحمه الله: المصلى؛ هو موضع صلاة العيد في الجبانة. (عمدة القاري: ۳/۱۱٦، باب ترك الحائض الصوم، دار الحديث، ملتان).
الفتاوى الهندية
میں مرقوم ہے:
الخروج إلى الجبانة في صلاة العيد سنة وإن كان يسعهم المسجد الجامع على هذا عامة المشايخ وهو الصحيح، هكذا في المضمرات. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۵۰). (وهكذا في البحر الرائق: ۲/۱۷۱، والدر المختار: ۱٦۹، سعيد، والمحيط البرهاني: ۲/۱۰۰، ومرقاة المفاتيح: ۳).

خیر الفتاوی میں مرقوم ہے: جنازہ گاہ میں اگر عید کی نماز پڑھی جائے تو نماز ہو جائے گی، جنازہ گاہ میں عید کی نماز ناجائز نہیں۔ (خیر الفتاوی: ۳/۱۲۲، ط: امدادیہ، ملتان)۔
ہاں اگر جنازہ گاہ قبرستان میں ہو اور سامنے نئی پرانی سب قبریں موجود ہوں تو وہاں عید کی نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے۔ ملاحظہ ہو فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے: جب قبرستان میں مردے دفن ہوتے ہیں اور وہاں قبریں نئی پرانی ہر قسم کی موجود ہیں تو وہاں نمازِ عید ادا نہ کی جائے

قبرستان میں نماز پڑھنے کی ممانعت حدیث وفقہ سے ثابت ہے۔ (فتاوی محمودیہ: ۸/٤۱۱، جامعہ فاروقیہ)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
باب
(
۳
)

جنائز سے متعلق متفرق مسائل:

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.