ایصالِ ثواب میں عمل کے بعد نیت کرنے کا حکم:
Question
ایصالِ ثواب کے لیے عمل سے پہلے نیت کرنا ضروری ہے یا عمل کرنے کے بعد بھی نیت کر سکتے ہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
ایصالِ ثواب کے لیے بہ وقتِ عمل نیت کرنا ضروری نہیں بلکہ عمل کرنے کے بعد بھی ایصالِ ثواب کی نیت کر سکتے ہیں ۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:
والظاهر أنه لا فرق بين أن ينوي به عند الفعل للغير أو يفعله لنفسه بعد ذلك يجعل ثوابه لغيره لإطلاق كلامهم، وأنه لا فرق بين الفرض والنفل. (فتاوى الشامي: ۲/۲٤۳، سعيد).
البحر الرائق میں مرقوم ہے:
لا فرق بين أن ينوي به عند الفعل للغير أو يفعله لنفسه ثم بعد ذلك يجعل ثوابه لغيره لإطلاق كلامه. (البحر الرائق: ۳/٦٤، دار المعرفة).
فتاوی محمودیہ میں مذکور ہے:
اگر نیک عمل، تلاوتِ قرآنِ پاک، نوافل، خیرات اس نیت سے کیا جائے کہ اللہ تعالی اس کا ثواب فلاں کو پہنچا دے تب بھی کافی ہے، اگر بغیر اس نیت کے کیا جائے تو بعد میں یہ دعا کرے کہ یا اللہ اس کا ثواب فلاں کو پہنچا دے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۹/۲۰۳، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3486
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3486