رجالِ غیب کو ایصالِ ثواب کرنے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 1 #82Urdu

Question

بعض اہل اللہ اور عملیات کے ماہرین کا معمول سفر میں جاتے وقت کچھ تلاوت کر کے رجالِ غیب کو ایصالِ ثواب کرنے کا ہے، جبکہ وہ اچھے اور برے بھی ہوتے ہیں، تو کیا جواب ہوگا؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں اگر مسلمان ہوں تو ایصالِ ثواب کرنا جائز اور درست ہے، عام قانون کے مطابق یعنی جس طرح انسانوں میں مسلمانوں کو ایصالِ ثواب کر سکتے ہیں، اسی طرح جناتوں میں مسلمانوں کو بھی کرنا جائز ہوگا ۔
لیکن ایصالِ ثواب کے نام پر ان کی ارواح کو خوش کرنے کی نیت سے استمداد ہرگز نہیں ہونا چاہیے، نیز اکابر دیوبند اور اپنے مشائخ سے رجال الغیب کے لیے ایصالِ ثواب کبھی نہیں سنا لہذا اس سے بچنا بہتر ہے ۔
دلائل کی تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں:
(فتاوی محمودیہ:
۹
/
۲۰۸
۔
۲۱۳
، مبوب و مرتب ۔ و فتاوی رحیمیہ:
۵
/
۱۲٤
۔
۱۲۵
۔ و احسن الفتاوی:
۹
/
۱٦
۔

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.