شہید کے دَین کی معافی کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #225Urdu

Question

شہداء کی تقریباً ٦۲ اقسام ہیں؛ جو فتاوی دار العلوم زکریا جلدِ دوم میں مرقوم ہیں، شہید کے بارے میں حدیث میں آتا ہے کہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، لیکن یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ کیا شہید کا دین یعنی قرض بھی معاف ہو جائے گا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

شہید کے تمام گناہ جو حقوق اللہ سے متعلق ہیں معاف ہو جاتے ہیں، ہاں جو حقوق العباد سے متعلق ہیں، مثلاً دین وغیرہ تو ان کی ادائیگی ضروری ہے، الا یہ کہ ادا نہ کر سکتا ہو تو اللہ تعالی صاحب حق کو اس کی طرف سے راضی کر دیں گے ۔ ملاحظہ ہو مسلم شریف کی حدیث میں ہے:

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: يغفر للشهيد كل ذنب إلا الدين. (صحيح مسلم: ۲/۱۳۵، باب من قتل في سبيل الله كفرت خطاياه إلا الدين).

امام نووی رحمه الله حدیثِ بالا کی شرح کرتے ہوے فرماتے ہیں:

وأما قوله ﷺ: إلا الدين، ففيه تنبيه على جميع حقوق الآدميين وإن الجهاد والشهادة وغيرهما من أعمال البر لا يكفر حقوق الآدميين وإنما يكفر حقوق الله تعالى. (شرح صحيح مسلم بهامش صحيح مسلم: ۲/۱۳۵، ط: قديمي).
قال الملا علي القاري رحمه الله: يغفر للشهيد كل ذنب، أي صغير وكبير، إلا الدَين أراد حقوق الآدميين من الأموال والدماء والأعراض فإنها لا تعفى بالشهادة كذا ذكره بعض الشراح. (مرقاة المفاتيح: ٦/۱۰۳، ط: إمداديه).

کتاب الفتاوی میں مرقوم ہے:
شہادت کی وجہ سے امید ہے کہ حقوق اللہ سے متعلق گناہ معاف ہو جائیں گے، لیکن بندوں سے متعلق جو حقوق ہیں وہ شہادت یا کسی اور نیکی کی وجہ سے معاف نہیں ہوتے، دَین بھی ایسے ہی حقوق میں سے ہے، چنانچہ حدیث میں یہ بات صراحتاً معلوم ہوتی ہے کہ شہادت کے باوجود انسان دین کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوتا ۔ (کتاب الفتاوی: ۳/۲٤۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.