زکوٰۃ کے فارم پر قبضہ کرنے سے زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #255Urdu

Question

اگر کوئی شخص Withdrawal formکے ذریعہ زکوٰۃ ادا کرے تو ادا ہو گی یا نہیں؟ اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ مزکی ایک فارم پر اپنا اکاؤنٹ نمبر وغیرہ کی تفصیل لکھتا ہے اور زکوٰۃ کی رقم کا مبلغ لکھتا ہے پھر وہ فارم مستحق زکوٰۃ کو دیتا ہے، پھر (۱) وہ فقیر اس فارم کو لے کر کسی دکان میں جاتا ہے اور سامان خریدتا ہے اور اس کے عوض بائع کو وہ فارم دے دیتا ہے پھر بائع اس سے اپنے اکاؤنٹ میں پیسے منتقل کر لیتا ہے، (۲) یا فقیر اس کے ذریعہ فیس ادا کرتا ہے ۔ (۳) یا فقیر کسی کو ہدیہ کر دیتا ہے ۔ (٤) یا فقیر سے وہ فارم گم جاتا ہے ۔ تو کیا اِن تمام صورتوں میں مزکی کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی یا نہیں؟
بينوا بالدليل توجروا بالأجر الجزيل.

Answer

بصورتِ مسئولہ فارم حاصل کرنا قبضہ حکمی کے مترادف ہے، لہٰذا مذکورہ ۱، ۲، ۳، میں زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، البتہ آخری صورت میں یعنی فارم کے گم ہو جانے کی صورت میں مزکی کا ذمہ فارغ نہیں ہوا، اس فارم کی پشت پر جتنی رقم مرقوم ہے اتنی اپنے اکاؤنٹ سے نکال کر مستحق زکوٰۃ کو دے دے یا دوسرا فارم لکھ دے تب ذمہ فارغ ہوگا ۔ ملاحظہ ہو البحر الرائق میں مذکور ہے:

والتمكن من القبض كالقبض

ولو وهب لرجل ثياباً في صندوق مقفل ودفع إليه الصندوق لم يكن قبضاً وإن كان الصندوق مفتوحاً كان قبضاً لأنه يمكنه القبض كذا في المحيط. (البحر الرائق: ۷/۲۸۵، كتاب الهبة، كوئته). (وكذا في الدر المختار: ۵/٦۹۰، سعيد).
وقال في المحيط البرهاني: والقبض نوعان: حقيقي وأنه ظاهر، وحكمي وذلك بالتخلية؛ لأنها إذا كانت بحضرتهما فقد تمكنت من قبضها حقيقة، وهو تفسير التخلية، وهذا قول محمد رحمه الله خاصة. (المحيط البرهاني: ٦/۲۳۸، الفصل الثاني فيما يجوز في الهبة وما لا يجوز، ط: بيروت). (وكذا في منحة الخالق على البحر الرائق: ۷/۲۸۵، ط: كوئته).
وفي الدر المختار: ولا يخرج عن العهدة بالعزل بل بالأداء للفقراء

وفي حاشية ابن عابدين: قوله ولا يخرج عن العهدة بالعزل، فلو ضاعت لا تسقط عنه الزكاة. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۲۷۰، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.