رمضان المبارک میں دن میں ہوٹل کھلے رکھنے کا حکم:
Question
ماہ مبارک میں ہوٹل کھولنا جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ گاہکوں کی اکثریت غیر مسلموں کی ہویا مسلمان ا ور غیر مسلم دونوں مخلوط ہوں ۔ بینوا توجروا ۔
Answer
رمضان المبارک میں مسلمان علاقوں میں تو رمضان کے احترام میں مطلقاً دن کے وقت ہوٹل بند رکھے جائیں تاکہ تعاون علی المعصیت لازم نہ آئے، اور جس مسلمان کا ہوٹل غیر مسلم علاقہ میں ہو تو اس کو بھی رمضان المبارک کے احترام میں بند رکھنا چاہیے، جیسے اگر کو ئی آدمی سعودی عرب سے ہندوستان یا پاکستان آ جائے اور اس کے ۳۰ روزے پورے ہو چکے ہوں تو وہ لوگوں کے ساتھ موافقت کر کے روزہ رکھے گا، اسی طرح مسافر مقیم ہو جائے یا نا بالغ دن میں بالغ ہو جائے تو امساک کرے گا نیز حائضہ دن کو پاک ہو جائے تو امساک کرے گی، اسی طرح مسلمانوں کو بھی رمضان کا احترام کرنا چاہیے اور ہوٹل بند رکھنا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو قرآن مجید میں ہے:
﴿وتعاونوا على البرّ والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان﴾. [المائدة: ۲].
حدیث شریف میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ صومكم يوم تصومون وأضحاكم يوم تضحون. (السنن الكبرى للبيهقي، رقم: ۸٤٦۷، كذا في الدارقطني، رقم ۳٤، ومصنف عبد الرزاق، رقم ۷۳۰٤).
فتاوی شامی میں ہے:
لو صام رائي هلال رمضان وأكمل العدة لم يفطر إلا مع الإمام لقوله عليه السلام صومكم يوم تصومون وفطركم يوم تفطرون
والناس لم يفطروا في مثل هذا اليوم فوجب أن لا يفطر، نهر. (فتاوى الشامي: ۲/ ۳۸٤، سعيد).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
الصبي إذا بلغ في بعض النهار وأسلم الكافر وأفاق المجنون وطهرت الحائض وقدم المسافر مع قيام الأهلية يجب عليه الإمساك بقية اليوم. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۱٤).
عمدۃ الفقہ میں ہے:
مفطرات سے رکنا واجب ہونے کے لئے چند اصول ہیں اور ہر ایک کے ماتحت کچھ فروعات ہیں، پہلا اصول یہ ہے کہ جس شخص پر رمضان کا روزہ اہلیت وجوب پائے جانے کی وجہ سے واجب ہوا لیکن اس کو رمضان کے روزہ میں شروع دن میں (طلوع فجر سے پہلے) کوئی ایسا عذر لاحق ہو جس کی وجہ سے روزہ رکھنا اس وقت اس پر فرض نہ ہو یا اس کی وجہ سے اس کو روزہ نہ رکھنا مباح ہو اور پھر دن میں وہ عذر زائل ہو جائے اور وہ اس حالت پر ہو جائے کہ اگر وہ اس حالت پر شروع دن میں یعنی طلوع فجر سے پہلے ہو تا تو اس کو روزہ رکھنا فرض ہو جاتا تو اس کو اس دن کا باقی حصہ روزہ داروں کی طرح کھانے پینے و جماع سے رکنا واجب ہے، مثلا طلوع فجر ہوتے ہی یا طلوع فجر کے بعد دن کے کسی حصہ میں کوئی نابالغ بچہ بالغ ہوا یا کافر مسلمان ہوا یا مجنون کو افاقہ ہوا یا حیض یا نفاس والی عورت پاک ہوئی یا مسافر اپنے سفر سے واپس آیا تو ایسے شخص پر اس دن کا باقی حصہ مفطرات سے رکنا واجب ہے تاکہ ان سب صورتوں میں جس قدر ممکن ہو سکے وقت کی حرمت قائم رہے پس روزے داروں کی مشابہت کرتے ہوے مفطرات سے رکنا وقت کا حق ادا کرنا ہے ۔ (عمدۃ الفقہ ج ۳ ص ۳۵۹) ۔
حضرت مفتی عبد الرحیم صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
ماہِ مبارک کا احترام کرتے ہوے دن کو کھانے پینے کا ہوٹل بند رکھنا ضروری ہے، کھانے پینے والے چاہے کوئی بھی ہو ں، یہ مبارک مہینہ شعائر اللہ میں سے ہے اور اللہ کے شعائر کا احترام ضروری ہے، قرآن مجید میں ہے:
﴿ومن يعظم شعائر الله فإنها من تقوى القلوب﴾،
لہٰذا اگر دن کو ہوٹل کھانا کھلانے یا چائے پلانے کے لئے کھولے گا تو ماہِ مبارک کی حرمت باقی نہیں رہے گی اور کھولنے والا گنہگار ہوگا ۔ البتہ شام کو افطاری سے کچھ پہلے لوگ افطاری کی چیزیں حلیم، فیرنی، سموسے وغیرہ خرید کر اپنے گھر لے جاتے ہوں تو اس میں کوئی خرابی نہیں کہ افطاری کا سامان ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ٤/ ۸۱، ط: الاحسان دیوبند) ۔
حضرت مفتی سلمان صاحب منصور پوری لکھتے ہیں:
رمضان المبارک میں روزہ کے اوقات میں ہوٹل و پان کی دکان کھولے رکھنا احترام رمضان کے خلاف ہے، مسلم محلوں میں اس طرح کی دکانیں بند ہی رہنی چاہئیں تاکہ روزہ خوروں کی حوصلہ افزائی نہ ہو ۔ (کتاب النوازل: ۱۷/۳۹۲، ط: المرکز العلمی مراد آباد) ۔
رمضان المبارک کے احترام میں ۳۱ واں روزہ رکھنا ضروری ہے: ملاحظہ ہو کتاب المسائل میں ہے:
کوئی شخص رمضان کے دوران سعودی عرب سے ہندوستان آ کر مقیم ہو جائے اور یہاں اس کے ۳۰ روزے پورے ہو جائیں تو وہ اس وقت تک روزہ رکھنا نہ چھوڑے گا جب تک ہندوستان میں عید کا چاند نظر نہ آ جائے چاہے ۳۱ یا ۳۲ روزے رکھنے پڑیں ۔ (کتاب المسائل: ۲/۱۳۸ نعیمیہ دیوبند، کذا فی احسن الفتاوی: ۸/ ۲۲۵، سعید، فتاوی دار العلوم زکریا: ۲/۷٤٤، ط: زمزم، و روزے کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا، ص ۲۱۱، بیت العمار) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3539
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3539