ماہِ شعبان میں حضور ﷺ کی بکثرت روزے رکھنے کی حکمت:

4 min readFatwa Vol 9 #288Urdu

Question

نمبر ۱۰: شعبان میں رسول اللہ ﷺ بکثرت روزے رکھتے تھے، اس کی کیا حکمت ہے؟ بینوا بالبرہان توجروا عند الرحمن ۔

Answer

رسول اللہ ﷺ کے ماہِ شعبان المعظم میں بکثرت روزے رکھنے کی علمائے کرام نے متعدد حکمتیں اور اسباب ذکر فرمائے ہیں: درجِ ذیل چند ملاحظہ کیجیے:
۱ ۔ ماہِ شعبان المعظم کے خصوصی فضائل احادیث میں وارد ہوئے ہیں، ان کے پیش نظر ۔
۲ ۔ اس ماہ میں بندوں کے اعمال اللہ رب العزت کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہیں، جیسا کہ ما قبل میں مذکور ہوا ۔
۳ ۔ اس ماہ میں بکثرت روزے رکھ کر آپ رمضان المبارک کا بہتر طریقہ پر استقبال فرماتے ہیں، گویا یہ ماہ رمضان کی برکات و انوارات کا پیش خیمہ اور مقدمہ ہے ۔
٤ ۔ حضور ﷺ کا روزے رکھنا امت کی تعلیم کی بنا پر تھا تاکہ آپ کو دیکھ کر اور لوگ بھی روزے رکھیں اور رمضان المبارک کے لیے تیار ہو جائیں، ورنہ ایک دم سے رمضان المبارک کے روزے رکھنا مشکل ہوتا ہے جب کہ پہلے سے اس کی عادت نہ ہو ۔
۵ ۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ نبی کریم ﷺ ازواجِ مطہرات کی موافقت میں روزے رکھتے تھے کیوں کہ ازواجِ مطہرات اس ماہ میں قضا روزے رکھتی تھیں ۔
احادیثِ مبارکہ سے چند دلائل ملاحظہ فرمائیں: صحیح ابن خزیمہ میں ہے:

عن أنس رضي الله عنه قال: سئل النبي ﷺ: أي الصوم أفضل بعد رمضان؟ فقال: شعبان لتعظيم رمضان، قيل: فأي الصدقة أفضل؟ قال: صدقة في رمضان: هذا حديث غريب، وصدقة بن موسى ليس عندهم بذاك القوي. (سنن الترمذي: ۳/٤۲).
عن عائشة رضي الله تعالى عنها تقول: كان أحب الشهور إلى رسول الله ﷺ أن يصومه شعبان ثم يصله برمضان. (رقم: ۲۰۷۷). إسناده صحيح.
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن عائشة رضي الله عنه حدثتهم أن النبي ﷺ كان يصوم شعبان كله قالت: يا رسول الله أحب الشهور إليك أن تصومه شعبان، قال: إن الله يكتب على كل نفس ميتة تلك السنة فأحب أن يأتيني أجلي وأناْ صائم. (مسند أبي يعلى، رقم: ٤۹۱۱). قال حسين سليم أسد: إسناده ضعيف.
وعن أسامة بن زيد رضي الله عنه، قال: قلت: يا رسول الله، رأيتك تصوم في شعبان صوماً لا تصومه في شيء من الشهور، إلا في شهر رمضان؟ قال: ذلك شهر يغفل الناس عنه، بين رجب وشهر رمضان، ترفع فيه أعمال الناس، فأحب أن لا يرفع لي عملي إلا وأناْ صائم. (مصنف ابن أبي شيبة: ٦/۳۳۸). قال الشيخ محمد عوامة: إسناده حسن من أجل ثابت من قيس.
فتح الباري
میں حافظ صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:

واختلف في الحكمة في إكثاره ﷺ من صوم شعبان، فقيل: كان يشتغل عن صوم الثلاثة أيام من كل شهر لسفر أو غيره فتجتمع فيقضيها في شعبان

وقيل: كان يصنع ذلك لتعظيم رمضان وورد فيه حديث آخر

وقيل: الحكمة في إكثاره من الصيام في شعبان دون غيره أن نسائه كن يقضين ما عليهن من رمضان في شعبان

الخ. (فتح الباري: ٤/۲۱٤، باب صوم شعبان).

خطباتِ حکیم الامت میں مرقوم ہے:
صومِ شعبان کی حکمت: رمضان سے پہلے نصف شعبان کا روزہ مشروع ہونے کی یہ بھی ایک حکمت ہے کہ روزہ سے گویا مناسبت ہو جائے اس کے بعد جب رمضان آئے گا تو روزہ کا اثر زیادہ نہ ہو گا بلکہ دل یوں کہے گا کہ جیسا شعبان کا روزہ تھا ویسا ہی رمضان کا ہو گا اس سے زیادہ کیا ہو گا چنانچہ بحمد للہ اب رمضان کے روزہ کا اثر زیادہ نہیں ہوا گو کسی قدر ضرور ہوا ۔ (خطبات حکیم الامت: ۱٦/٤۳۱) ۔

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.