تحریری طلاق پر دستخط کرنے سے وقوعِ طلاق کا حکم:

5 min readFatwa Vol 9 #350Urdu

Question

ایک شخص نے ماضی بعید میں بے دینی کی وجہ سے کو میونٹی آف پروپٹی میں نکاح کیا تھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ میاں بیوی میں سے جس کا انتقال ہو جائے زندہ کو اس کی جائیداد کا نصف ملے گا، یہ قانون اسلامی شریعت کے خلاف ہے اب اس کو ختم کرنا چاہتا ہے لیکن وکیل نے مشورہ دیا کہ طلاق دینی ہو گی تو کیا یہ شخص وکیل کے طلاق نامہ پر دستخط کر دے گا تو طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

شریعتِ مطہرہ میں جس طرح صریح الفاظ کے ساتھ زبانی کہہ دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے اسی طرح لکھی ہوئی تحریری طلاق پر دستخط کر دینے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، وجہ یہ ہے کہ صریح الفاظ کسی نیت کے محتاج نہیں بلا نیت وارادہ کے طلاق واقع ہو جاتی ہے اگر چہ کسی مصلحت کی وجہ سے ایسا کیا ہو ۔
البتہ طلاق کے عدمِ وقوع کی ایک صورت فقہائے کرام نے یہ بیان کی ہے کہ طلاق کے بعد متصلاً ان شاء اللہ کہہ دے یا تحریری طلاق پر دستخط کے ساتھ ان شاء اللہ لکھ دے تو طلاق واقع نہیں ہو گی ۔ اس طرح قانونی طلاق سے چھٹکارا بھی مل جائے گا اور شرعی طور پر زوجین کے نکاح پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوگا ۔
دلائل حسبِ ترتیب ذیل ملاحظہ ہو فرمائیں:

عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله ﷺ: ثلاث جدهن جد وهزلهن جد: النكاح، والطلاق، والرجعة. رواه الأربعة إلا النسائي وصححه الحاكم، وقال الترمذي: حسن غريب، والعمل على هذا عند أهل العلم من أصحاب النبي ﷺ وغيرهم. (سنن الترمذي، رقم: ۱۱۸٤).
وفي رد المحتار: صريحه ما لم يستعمل إلا فيه أي غالباً كما يفيد كلام البحر وعرفه في التحرير بما يثبت حكمه بلا نية، وأراد بما اللفظ أو ما يقوم مقامه من الكتابة المستبينة أو الإشارة المفهومة

لأن ركن الطلاق اللفظ أو ما يقوم مقامه مما ذكر

قوله ولو بالفارسية فما لا يستعمل فيها إلا في الطلاق فهو صريح يقع بلا نية. (فتاوى الشامي: ۳/۲٤۷، سعيد).
عيون المسائل
میں ہے:

ولو كتب إليها: أما بعد: فأنت طالق ثلاثاً إن شاء الله، فإن كان موصولاً في الكتاب لا تطلق، وإن كتب الطلاق ثم مد مدة، ثم كتب إن شاء الله، يقع الطلاق. (عيون المسائل، ص ٦۰).
وفي المحيط البرهاني: فإن كان كتب إن شاء الله موصولاً بكتابته أما بعد: فأنت طالق، لا تطلق، وإن فتر فترة بعد ما كتب أنت طالق ثم كتب إن شاء الله تطلق، لأن الكتاب من الغائب بمنزلة التلفظ من الحاضر. (المحيط البرهاني: ۳/٤۲۹، الفصل السادس في إيقاع الطلاق).

امام ابو یوسف رحمه الله کتاب الآثار میں فرماتے ہیں:
قال: ثنا يوسف عن أبيه عن أبي حنيفة رحمه الله عن حماد رحمه الله، عن إبراهيم، أنه قال: إذا قال الرجل لا مرأته: أنت طالق إن شاء الله فليس بشيء ولا يقع الطلاق. (كتاب الآثار، ص ۱۳۸، رقم: ٦۱۸).
قال في لسان الحكام: كتب الطلاق واستثني بلسانه أو طلق بلسانه واستثني بالكتابة يصح. (لسان الحكام، ص ۳۲۸، ط: القاهرة).

قاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی رحمه الله فرماتے ہیں: طلاقِ صریح کا حکم یہ ہے کہ نیت کے بغیر بھی اس سے طلاق واقع ہو جائے گی ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی، ص ۱۳۸) ۔
دوسری جگہ فرماتے ہیں: تحریری طلاق کی چند صورتیں ہیں (۱) مستبینہ مرسومہ: اگر باضابطہ طلاق نامہ یا مکتوب عنوان اور مخاطب کے ساتھ لکھا گیا ہو تو اسے کتابتِ مستبینہ مرسومہ کہتے ہیں، یہ تلفظ کے قائم مقام ہے، اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی، دفعہ ۳/٤، ص ۱۲۹) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ طلاق نامہ پر دستخط کے ساتھ ان شاء اللہ کہہ دے اور لکھ بھی دے تو اس کی وجہ سے قانونی نکاح ختم ہو جائے گا لیکن شرعی نکاح پر طلاق نامہ کا کوئی اثر نہ ہوگا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.