" رات ۹بجے صلح نہ ہوئی تو تیسری طلاق" کہنے سے طلاق واقع ہونے کا حکم:
Question
ایک شخص نے پہلے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دی ہیں، اب بیوی سے کہا کہ اگر آج رات ۹ بجے ہماری صلح نہیں ہوئی تو میں تیسری طلاق جاری کر رہا ہوں، اب اگر صلح نہیں ہوئی تو تیسری طلاق پڑے گی یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر رات ۹ بجے صلح نہیں ہوئی تو تیسری طلاق واقع ہو جائے گی، اور عورت مغلظہ ہو جائے گی پھر بغیر شرعی حلالہ کے اس کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہ ہوگا ۔ ملاحظہ ہو تبیین الحقائق میں ہے:
الطلاق المعلق بالشرط فإنه ليس بطلاق للحال ولأنه إعدام ويصير طلاقاً عند وجود الشرط. (۳/۱۹۳، ط: إمداديه). (وكذا في فتاوى الشامي: ۳/۳٤۱، سعيد، والفقه الحنفي في ثوبه الجديد: ۲/۱۸۳، دار القلم).
صیغہ حال سے طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔ ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا: ٤/٤۵، ط: ممبئی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3620
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3620