" میری طرف سے تم فری ہو "کہنے سے طلاق کا حکم:
Question
ایک شخص کا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا اور غصہ کی حالت میں اس نے اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے:" میری طرف سے تم فری ہو جہاں پے جانا چاہتی ہو جاؤ "لیکن اس کو یہ معلوم نہیں ہے کہ تین مرتبہ کہا یا ایک مرتبہ کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہو گئی یا نہیں؟ ہوئی تو کتنی؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ شوہر کے یہ الفاظ کہ میری طرف سے تم فری (Free) ہو جہاں جانا چاہتی ہو جاؤ، طلاق کے بارے میں صریح نہیں، لہٰذا اگر شوہر نے طلاق کی نیت سے یہ الفاظ کہے ہیں تو ایک طلاقِ بائن واقع ہو گئی اور اگر بلا نیت کہے تھے تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔ ملاحظہ ہو ہدایہ میں مرقوم ہے:
الكنايات لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة الحال، لأنها غير موضوعة للطلاق بل تحتمله وغيره فلا بد من التعيين أو دلالته، وهي على ضربين
وبقية الكنايات إذا نوى بها الطلاق كانت واحدة بائنة وإن نوى ثلاثاً كانت بثلاث
إلا أن يكون في حال مذاكرة الطلاق فيقع بها الطلاق في القضاء ولا يقع فيما بينه وبين الله تعالى إلا أن ينويه. (الهداية: ۲/ ۳۷٤، باب إيقاع الطلاق، سعيد).
(وكذا في الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۲۹٦، سعيد، والفتاوى الهندية: ۱/۳۷٦).
فتاوی دار العلوم دیوبند میں مذکور ہے:
آزاد کرنے کا لفظ کہنا صریح طلاق نہیں ہے کنایہ ہے، اگر نیت شوہر کی اس لفظ سے طلاق کی ہے اور حال یہ ہے کہ شوہر بالغ ہے تو اس لفظ سے ایک طلاقِ بائنہ اس کی زوجہ پر واقع ہو گئی ۔ (فتاوی دار العلوم: ۹/۲٦۸) ۔
دوسری جگہ مذکور ہے: جہاں جی چاہے چلی جا، کنایاتِ طلاق سے ہیں، ان میں اگر شوہر کی نیت طلاق کی ہو تو طلاقِ بائنہ واقع ہوتی ہے ورنہ نہیں، پس شوہر سے دریافت کیا جاوے کہ اس نے کس نیت سے یہ الفاظ کہے ہیں ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۹/۲۵۹، دار الاشاعت) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (فتاوی محمودیہ: ۱۲/۵۰۰، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3637
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3637