" اگر تم بھائی کے گھر گئی تو فارغ "کہنے سے طلاق کا حکم:
Question
ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا" اگر تم بھائی کے گھر گئی تو فارغ" اگر وہ بھائی کے گھر چلی گئی تو اِن الفاظ سے طلاق ہو گی یا نہیں؟ اور اس میں نیت کا اعتبار ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر عورت بھائی کے گھر چلی جائے گی تو بلا نیت طلاق واقع ہو جائے گی، کیوں کہ عموماً فارغ کا لفظ طلاق کے لیے استعمال ہوتا ہے، لہٰذا طلاق واقع ہو جائے گی، یہ لفظ محتاجِ نیت نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں منقول ہے:
سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال: رها كردم أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضاً وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الناس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن لولا ذلك لوقع به الرجعي. (فتاوى الشامي: ۳/۲۹۹، سعيد). وفي الهندية: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقب الشرط اتفاقاً. (الفتاوى الهندية: ۳/۳۰۲).
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں مذکور ہے:
میں نے تمہیں فارغ کر دیا، طلاق ہی کے الفاظ ہیں، ان الفاظ سے ایک طلاق بائن واقع ہو گئی، دوبارہ نکاح کر لیا جائے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٦/٤۵۸) ۔
احسن الفتاوی میں ہے: لفظ فارغ خطی عرف میں طلاق کے لیے مستعمل ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۵/۱۵۵) ۔
امداد الفتاوی میں ہے:
یہ لفظ فارغ خطی کنایہ ہے اور چونکہ اس سے ایقاع بائن متعارف ہے اس لیے بلا نیت اس سے طلاق بائن واقع ہو جائے گی ۔ (امداد الفتاوی: ۲/٤٤۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3613
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3613