بینک کا وکالت پر اجرت لینے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #401Urdu

Question

اگر مشتری بینک کو گاڑی خریدنے کے لیے وکیل بالشراء بنا دے اور دس ہزار بینک کے لیے وکالت کی اجرت متعین کر دے تو کیا بینک کے لیے یہ اجرت جائز ہو گی یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

Answer

وکیل کا اجرت کے ساتھ کام کرنا جائز اور درست ہے جب کہ وہ وکیل اجرت لینے میں معروف و مشہور ہو یا پہلے سے بتلا دیا جائے اور اجرت بھی متعین کر دی جائے، تاکہ بعد میں نزاع واقع نہ ہو، چنانچہ بینک کا دس ہزار لے کر اپنے موکل کے لیے گاڑی خریدنا جائز اور درست ہے۔ ملاحظہ ہو فتح القدیر میں مرقوم ہے:

والصواب أن مراد صاحب العناية هو أنه قد يكون في نفس الوكالة التعاوض كما إذا أخذ الوكيل الأجرة لا قامة الوكالة فإنه غير ممنوع شرعاً، إذ الوكالة عقد جائز لا يجب علي الوكيل إقامتها فيجوز أخذ الأجرة فيها. (فتح القدير: ۸/۳، دار الفكر، وفتاوى الشامي: ۷/۲٦۹).

اسلامی فقہ میں ہے: با اجرت وکیل میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اجرت لے کر یا کمیشن پر کوئی کام کرتے ہیں، کسی حکومت کے تمام ملازمین اس کے وکیل ہوتے ہیں، اس لیے ان کو اپنی حکومت کی مرضی کے مطابق کام کرنا چاہیے، آپ اپنے ذاتی ملازم سے کوئی کام کرائیں تو یہ آپ کا وکیل سمجھا جائے گا، اسی طرح اگر آپ کمیشن ایجنٹ مقرر کریں تو یہ آپ کا وکیل سمجھا جائے گا، یعنی اس کو آپ کی ہدایت کے مطابق کام کرنا چاہیے۔ (اسلامی فقہ: ۲/ ٦٤۷) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی دار العلوم زکریا: ۵/۷۲۰ و ۷۱۷ ط: زمزم، و جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۲۲۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.