وکالت کے معاہدہ پر فیس لینے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 5 #372Urdu

Question

ایک شخص نے اسلامی بینک میں آ کر معاہدہ کے فارم بھر کر دستخط کیے اور وکالت کے فارم پر دستخط سے پہلے اس نے معاہدہ ختم کر دیا، اب بینک کے لیے اس آدمی سے فیس وصول کرنا جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ بینک نے اس فیس کے بارے میں کوئی تذکرہ نہیں کیا تھا؟

Answer

بصورتِ مسئولہ یہ فیس لینا معروف یا مشروط یا موعود ہے، اور بینک کی کاغذی کاروائی کا معاوضہ ہے تو اس کا لینا اور دینا جائز اور درست ہے ۔
فتاوی قاضی خان میں ہے:

ذكر الشرط على وجه المواعدة جاز البيع ويلزمه الوفاء بالوعد لأن المواعدة قد تكون لا زمة فتجعل لا زمة لحاجة الناس. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۲/۱٦۵).

شرح عنایہ میں ہے:

والعرف ينفي النزاع

فلم يبق من الموانع إلا القياس على ما لا عرف فيه بجامع كونه شرطاً والعرف قاضٍ عليه. (شرح العناية: ٦/۴۴۲، دار الفكر).

شرحِ مجلہ میں ہے:

نقل عن جامع الفصولين أنه لو ذكر البيع بلا شرط، ثم ذكر الشرط على وجه العدة، جاز البيع ولزم الوفاء بالوعد، إذ المواعيد قد تكون لازمة فيجعل لازماً لحاجة الناس. (شرح المجلة: ۲/٦۱).

احسن الفتاوی میں ہے:
معاہدہ کی پابندی فریقین پر ضروری ہے منحرف ہونے والے فریق کو ایفاء معاہدہ پر مجبور کیا جا سکتا ہے ۔ (احسن الفتاوی:
٦
/
۵۵۰
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.