بچہ نے ایک ہفتہ دودھ نہیں پیا تو اس ہفتہ کی اجرت لینے کا حکم:
Question
ایک آدمی نے اپنے بچہ کو دودھ پلانے کے لیے ٤ ہزار رینڈ تنخواہ پر ایک عورت کو مقرر کیا، ایک ہفتہ بچہ بیمار رہا اس کی وجہ سے بچے نے دودھ نہیں پیا، تو کیا عورت اس ہفتہ کی تنخواہ کی مستحق ہو گی یا نہیں؟ جب کہ عورت پورے مہینہ کی تنخواہ طلب کر رہی ہے، کیوں کہ وہ تو تیار تھی، بچہ نہیں پی سکتا تھا، اور بچے کا والد تین ہفتے کی اجرت دینا چاہتا ہے، اب کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ مرضعہ دودھ پلانے والی اجیر خاص کے حکم میں ہے، اور اجیر خاص کی طرف سے کوئی تعدی اور قصور نہ ہو تو وہ اجرت کا مستحق ہے، چنانچہ عورت کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں تھی لہٰذا پورے مہینہ کی اجرت واجب ہے ایک ہفتہ کی تنخواہ وضع کرنا درست نہیں ۔ ملاحظہ ہو البحر الرائق میں مرقوم ہے:
والخاص يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استوجر شهراً للخدمة أو لرعي الغنم يعني الأجير الخاص يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة عمل أو لم يعمل. (البحر الرائق: ۸/۳۳، دار المعرفة). (وكذا في الدر المختار: ٦/٦۹، سعيد).
مزید ملاحظہ ہو : (امداد الفتاوی: ۳/۳٦۲، و فتاوی قاسمیہ: ۲۱/۵٤٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3678
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3678