آن لائن ڈراپ شاپنگ تجارت کا حکم:
Question
ڈراپ شاپنگ کا طریقہ کار یہ ہے کہ ایک شخص اپنی ویپ سائٹ کے ذریعہ کمپنی کے مال کی تشہیر کرتا ہے، گاہک قیمت ادا کرتے ہیں تو یہ شخص قیمت اور مشتری کی فرمائش کمپنی کو بھیج دیتا ہے، کمپنی مشتری کی مطلوبہ چیز اس کے گھر پہنچا دیتی ہے اور اس گاہک لانے والے شخص کو اس کا کمیشن بھی ادا کر دیتی ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کمیشن لینا جائز ہے؟ نیز کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مطلوبہ چیز کمپنی میں موجود نہیں ہوتی اور مناسب وقت میں فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے تو کیا اس کو ایک کوپن دینا جائز ہو گا یا اس کی قیمت واپس کرنا ضروری ہے؟
Answer
بصورتِ مسئولہ یہ شخص جو کمپنی اور مشتری کے درمیان واسطہ ہے، یہ ایجنٹ اور دلال کے حکم میں ہے اور دلال کا اجرت یا کمیشن لینا جائز اور درست ہے، لیکن اگر وہ مطلوبہ چیز کمپنی کے پاس نہیں ملی تو یہ بیع معدوم ہوئی جو کہ باطل ہے، لہٰذا مشتری کو قیمت واپس کرنا ضروری ہے، ہاں اگر مشتری کوپن لینے پر راضی ہو تو پھر کوپن دینا بھی صحیح ہے ۔ ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں مرقوم ہے:
وأما الذي يرجع إلى المعقود عليه فأنواع منها: أن يكون موجوداً فلا ينعقد بيع المعدوم، وماله خطر العدم. (بدائع الصنائع: ۵/۱۳۸، سعيد).
مجلة الأحكام العدلية
میں مرقوم ہے:
المادة: بيع المعدوم باطل فيبطل بيع ثمرة لم تبرز أصلاً. (مجلة الأحكام ص ٤۲).
دلالی کی اجرت جائز اور درست ہے ۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا: جلد، ۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3679
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3679