کمپنی کے لیے سوفٹ ویئراور ویپ سائٹ بنانے کا حکم:
Question
ایک آئی، ٹی، آئی کی کمپنی ہے جو مختلف کمپنیوں کے لیے سوفٹ ویئر اور ویپ سائٹ بناتی ہے، ابھی ایک ایسی کمپنی کا آڈر ملا ہے جو ٹی وی بناتی ہے تو کیا اس کمپنی کے لیے ٹی وی والی کمپنی کا سوفٹ ویئر اور ویپ سائٹ بنانا جائز ہو گا یا نہیں؟ اسی طرح بیوٹی پالر، فوٹو شاپ اور نائی کے لیے سوفٹ ویئر اور ویپ سائٹ بنانے کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
جائز اور حلال کاروبار والی کمپنیوں کا سوفٹ ویئر اور ویپ سائٹ بنانا جائز اور درست ہے اور اس کی آمدنی بھی حلال ہے، ہاں جو کمپنیاں حرام کاروباری یا معصیت کے کاموں میں سرگرم ہیں، ان کے ویپ سائٹ اور سوفٹ ویئر بنانے سے بچنا چاہیے اس میں گناہ کے کام میں ایک قسم کا تعاون پایا جاتا ہے، تاہم اگر کسی نے بنایا تو آمدنی حرام نہ ہو گی بلکہ مکروہ ہو گی ۔
اسی طرح بیوٹی پارلر اور نائی کا غالب کاروبار حدودِ شریعت میں رہتے ہوے ہے تو ٹھیک ہے ورنہ مکروہ ہوگا لیکن بیوٹی پارلر میں قباحتیں زیادہ ہیں لہٰذا اس سے بچنا چاہیے ۔ نیز فوٹو شاپ میں عام طور پر جاندار کی تصویریں بنا کر ان کو خوبصورت کیا جاتا ہے، ایسے کاروبار والوں کے لیے سوفٹ ویئر بنانا مکروہ ہے، اس سے بھی بچنا چاہیے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں مذکور ہے:
قوله معزياً للنهر قال فيه من باب البغاة وعلم من هذا أنه لا يكره بيع ما لم تقم المعصية به كبيع الجارية المغنية والكبش النطوح والحمامة الطيارة والعصير والخشب الذي يتخذ منه العازف، وما في بيوع الخانية من أنه يكره بيع الأمرد من فاسق يعلم أنه يعصي به مشكل. (فتاوى الشامي: ٦/۳۹۱، سعيد).
جواہر الفقہ میں مذکور ہے:
ثم السبب إن لم يكن محركاً وداعياً، بل موصلاً محضاً، وهو مع ذلك سبب قريب بحيث لا يحتاج في إقامة المعصية به إلى إحداث صنعة من الفاعل، كبيع السلاح من أهل الفتنة وبيع العصير ممن يتخذه خمراً
فكله مكروه تحريماً بشرط أن يعلم به البائع والآجر من دون تصريح به باللسان، فإنه إن لم يعلم كان معذوراً. (جواهر الفقه: ۲/٤۵۲).
فتاوی محمودیہ کی تعلیق میں لکھا ہے کہ اگر کسی شخص کے بارے میں یقینی پتا چل جائے کہ وہ اس کو گناہ ہی میں استعمال کرے گا تو ایسے شخص کے ہاتھ فروخت کرنا مکروہ ہے ۔ (تعلیقاتِ فتاوی محمودیہ: ۱٦/۱۲۹، جامعہ فاروقیہ) ۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
خواتین کو آرائش اور زیبائش کی تو اجازت ہے، بشرطیکہ حدود کے اندر ہو، لیکن موجود ہ دور میں بیوٹی پالرز کا جو پیشہ کیا جاتا ہے، اس میں چند در چند قباحتیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے یہ پیشہ حرام ہے اور وہ قباحتیں مختصراً یہ ہیں:
۱ ۔ بعض جگہ مرد اس کا کام کرتے ہیں اور یہ خالصتاً بے حیائی ہے ۔
۲ ۔ ایسی خواتین بازاروں میں حسن کی نمائش کرتی پھرتی ہیں، یہ بھی بے حیائی ہے ۔
۳ ۔ بیوٹی پالرز سے آنے کے بعد مرد و عورت اور لڑکے اور لڑکی میں امتیاز مشکل ہوتا ہے، حالانکہ مرد کا عورتوں اور عورت کا مردوں کی مشابہت کرنا موجبِ لعنت ہے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۸/۳۲۵) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا: ۷/۳۷۳) ۔
قال في البحر الرائق: وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير صورة الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث يعني مثل ما في الصحيحين عنه ﷺ، أشد الناس عذاباً يوم القيمة المصورون يقال لهم أحيوا ما خلقتم. (البحر الرائق: ۲/۲۹، دار الكتاب الإسلامي).
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا، جلدِ ہفتم) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3713
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3713