بینک سے سودی قرض لے کر گاہک کو خریداری پر رعایت دینے کا حکم:
Question
بعض تجار گاہکوں کو خریدنے پر آمادہ کرنے کے لیے ان کو بینک کے ذریعہ خریدنے کی پیشکش کرتے ہیں تاکہ تین قسطوں میں ثمن کی ادائیگی کی رعایت مل جائے، اس کی صورت یہ ہے کہ بینک مشتری کی طرف سے بائع کو یک مشت فوری طور پر قیمت ادا کر دیتا ہے اور مشتری بینک کو تین قسطوں میں وہی قیمت ادا کرتا ہے ہے، پھر بینک بائع سے مبیع کی قیمت کے تناسب سے کچھ فیصد سود وصول کرتا ہے ۔
اب اس کی درجِ ذیل چند صورتیں ہیں:
مسلمان گاہک کے لیے مسلمان تاجر کی دکان سے خریدنا ۔
مسلمان گاہک کے لیے غیر مسلم کی دکان سے خریدنا ۔
کسی محتاج اور متوسط درجہ والے کے لیے حاجت کی بنا پر ایسا معاملہ کرنا ۔
مسلمان تاجر کے لیے ایسی پیشکش کرنا، اگر نہیں کی تو بہت ممکن ہے کہ گاہک خریداری کے لیے دوسری دکان پر چلا جائے پر چلا جائے ۔
کیا یہ زائد فیصد سود کو سروس چارج میں شمار کیا جا سکتا ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ مذکورہ بالا معاملہ سود پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے ۔
۱ ۔ مسلمان گاہک کا مسلمان دکاندار کے ساتھ ایسا سودی معاملہ کرنا ناجائز ہے ۔
۲ ۔ کفار نے اسلامی احکام کا التزام نہیں کیا ہے اس وجہ سے کافر تاجر کے ساتھ ایسا معاملہ کرنا جائز ہے، تاہم اجتناب اولی ہے ۔ ہاں کفار سے سود حاصل کرنا جائز نہیں ۔
۳ ۔ جب تک کوئی سخت ضرورت یا مجبوری کی شکل نہ ہو وہاں تک سودی لین دین میں ملوث ہونا جائز نہیں ۔ کیوں کہ نفس حاجت کی بنا پر حرام معاملہ حلال نہیں بن جاتا ۔
٤ ۔ مسلمان تاجر کے لیے ضروری ہے کہ اپنی تجارت کو فروغ دینے کے لیے جائز ذرائع اختیار کرے اور ناجائز اسباب سے پرہیز کرے، اور گاہک کو سودی معاملہ کی پیشکش کرنا شرعاً جائز نہیں ہے ۔
۵ ۔ بینک کے سود کو سروس چارج کہنا مشکل ہے، کیوں کہ قیمت کے تناسب سے لی جانے والی رقم سود ہی کہلائے گی ۔ دلائل حسبِ ذیل ملاحظہ فرمائیں:
قال في الدر المختار: وفي الخلاصة: القرض بالشرط حرام
وفي الأشباه: كل قرض جر نفعاً حرام، وفي رد المحتار: قوله كل قرض جر نفعاً حرام، أي إذا كان مشروطاً كما علم مما نقله عن البحر وعن الخلاصة. (الدر المختار مع رد المحتار: ٥/١٦٦، سعيد).
العنایہ شرح الہدایہ میں ہے:
الربا في اللغة هو الزيادة
وفي الاصطلاح هو الفضل الخالي عن العوض المشروط في البيع. (العناية: ٣/٧). (وكذا في الدر المختار: ٥/١٦٨، سعيد).
معجم لغة الفقهاء
میں مذکور ہے:
الربا كل زيادة مشروطة في العقد خالية عن عوض مشروع. (معجم لغة الفقهاء، ص ٢١٨). (وكذا في التعريفات الفقهية، ص ١٠٢).
منتخباتِ نظام الفتاوی میں مرقوم ہے:
شرعاً ربا کے معنی میں جتنی عبارتیں فقہاء نے نقل فرمائی ہے ان سب کا حاصل یہ ہے کہ اموالِ ربویہ میں عقدِ معاوضہ کا معاملہ ہوا اور اسی عقد میں کسی جانب کو زیادتی بلا عوض ہو (یعنی) جس میں نفع عقدِ معاملہ میں مشروط ہو. (منتخباتِ نظام الفتاوی: ١/١٩٥) ۔
کفار کے آپس کے معاملات کے متعلق فساد کا حکم نہیں لگایا جائے گا ۔ ملاحظہ ہو امداد الاحکام میں ہے:
امام اعظم رحمه الله کے نزدیک اہل ذمہ کے بھی معاملات خلاف شرع پر حکمِ فساد نہ لگایا جائے گا، بشرطیکہ وہ معاملات خود ان کے دین کے موافق ہوں کیوں کہ اہل ذمہ نے معاملات میں احکامِ اسلام کا التزام اپنے معتقدات کے خلاف میں نہیں کیا لہٰذا ایسے معاملات جب وہ اپنے مذہب کے موافق کریں گے تو ان کو صحیح مانا جائے گا اور حکمِ فساد نہ دیا جائے گا جواب کا حاصل یہ ہے کہ کفار مخاطب بالفروع فی العقوبات و المعاملات اگر چہ ہیں لیکن حکم بالحرمۃ و الفساد کے لیے خطابِ عام کافی نہیں بلکہ التزام بھی شرط ہے. (امداد الاحکام: ٤/٣٩٠) ۔
منتخباتِ نظام الفتاوی میں مرقوم ہے:
غیر مسلم آپس میں سودی کاروبار اور سودی لین دین بھی کرتے ہیں، بہت سی بیع باطل و فاسد بھی کرتے ہیں، شراب بھی بناتے اور بیچتے ہیں، اور اس کی قیمت لیتے ہیں، خنزیر بھی بیچ کر اس کی قیمت لیتے ہیں، پھر مسلمانوں کو یہ پیسے مزدوری میں انعام وغیرہ میں دیتے ہیں، اور ان سب پیسوں کا حرام ہونا معلوم ہونے کے با وجود اس پیسوں کا لینا اس وقت تک شرعاً جائز و غیر مکروہ شمار ہوتا ہے جب تک کہ یہ یقین نہیں ہوتا کہ یہ چیز جس کو فروخت کر رہا ہے یہ بعینہٖ وہی چیز ہے جس کو چرا کر یا ڈاکہ ڈال کر لایا ہے یا جو قیمت دے رہا ہے یہ بعینہٖ وہی روپیہ ہے جس کو چرا کر یا ڈاکہ ڈال کر مثلاً لایا ہے، (یعنی بعینہٖ چوری، ڈاکہ وغیرہ کا ہو تو جائز نہیں) غرض ان سب کا لے لینا اور استعمال کر لینا سب درست رہتا ہے. (منتخباتِ نظام الفتاوی، ص ٤٦٨، ط: اصلاحی کتب خانہ) ۔
ہاں اگر اس پورے معاہدہ پر گاہک کو بھی دستخط کرنے پڑتے ہو تو پھر اس قسم کے سودی معاملہ پر دستخط کر کے رعایت لینا جائز نہیں ہے، اس سے بچنا ضروری ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3687
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3687