غیر مسلم کے لیے سیاحت کی جگہ کھانا فراہم کرنے کا حکم:
Question
ایک آدمی حلال کھانے کی تجارت کرتا ہے، ایک تفریحی سیاحت گاہ ہے جس کے ماتحت ایک رقص گاہ چلتی ہے، مسلمان اور غیر مسلم سب اس تفریحی جگہ پر سیر و سیاحت کے لیے جاتے ہیں، کیا ایسی جگہ کھانا فراہم کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ عام سیاحت کرنے والے چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، ان کے لیے کھانے کا انتظام کرنا اور ان کو کھانا فروخت کرنا جائز اور درست ہے اور اس کی آمدنی بھی حلال و طیب ہے، ہاں خصوصی طور پر جو لوگ رقص گاہ میں ہوں یا دیگر فواحش کے اڈے میں ہوں وہاں جا کر کھانا پہنچانا گناہ اور معصیت پر تعاون ہے جو ناجائز ہے، اس سے فوری اجتناب کرنا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو جواہر الفقہ میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
ثم السبب إن لم يكن محركاً وداعياً، بل موصولاً محضاً، وهو مع ذلك سبب قريب بحيث لا يحتاج في إقامة المعصية به إلى إحداث صنعة من الفاعل كبيع السلاح من أهل الفتنة
وإجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر أو يتخذها كنيسة أو بيت نار وأمثالها، فكله مكروه تحريماً بشرط أن يعلم به البائع والآجر من دون تصريح به باللسان، فإنه إن لم يعلم كان معذوراً وإن علم وصرح كان داخلاً في الإعانة المحرمة.
(جواہر الفقہ: ۲/٤۵۳، طبع قدیم) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3700
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3700