قرض میں اجل کا بطورِ وعدہ لازم ہونے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 9 #438Urdu

Question

زید کو مقدمہ کے لیے بڑی رقم کی ضرورت پڑی، بکر کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے بکر نے زید کو دو سال کی مدت میں بالاقساط ادائیگی کے وعدہ پر تین لاکھ رینڈ قرض دیا، پھر اچانک تعلقات ختم ہوئے اور بکر نے چھ ماہ میں رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا، زید نے وعدہ یاد دلاتے ہوئے کہا کہ دو سال کی مدت میں ادائیگی مکمل ہو جائے گی، بکر چونکہ عالم ہے اس لیے اس نے کہا قرض میں اجل لازم نہیں ہے اور مجھے مطالبہ کا حق ہے، اب شریعت کا کیا حکم ہے؟
۲ ۔ زید یہ بھی کہتا ہے کہ میرے پاس فی الحال ادائیگی کے لیے کوئی انتظام نہیں ہے، آپ پر مہلت لازم ہے ۔ شرعاً کیا حکم ہے؟ کیا مہلت دینا لازم ہو گا یا نہیں؟ بینوا بالدلیل توجروا بالاجر الجزیل ۔

Answer

مذہبِ احناف کے مطابق قرض میں اجل لازم نہیں، لہٰذا بکر کو مطالبہ کا حق حاصل ہے، البتہ بلا وجہ وعدہ خلافی کرنے کا گناہ ہوگا ۔
۲ ۔ اگر زید کے پاس فی الحال ادائیگی کا کوئی انتظام نہیں، تنگ دست ہے تو بکر کے لیے مہلت دینا لازم ہے ۔ ملاحظہ ہو ہدایہ میں مذکور ہے:

قال: وكل دين حال إذا أجله صاحبه صار مؤجلاً لما ذكرنا إلا القرض فإن تأجيله لا يصح لأنه إعارة وصلة في الابتداء حتى يصح بلفظة الإعارة ولا يملكه من لا يملك التبرع كالوصي والصبي ومعاوضة في الانتهاء فعلي اعتبار الابتداء لا يلزم التأجيل فيه. (الهداية: ۳/٦۰).
(وكذا في التبيين: ٤/۸٤، ط: إمداديه، وفتاوى الشامي: ۵/۱۵۸، سعيد، ومجمع الأنهر: ۳/۱۱۷، ط: بيروت، والبحر الرائق: ٦/۱۳۲، ط: دار المعرفة).

بہشتی زیور میں مرقوم ہے:
مسئلہ نمبر ٤: کسی سے کچھ روپیہ یا غلہ اس وعدہ پر قرض لیا کہ ایک مہینہ یا پندرہ دن کے بعد ہم ادا کر دیں گے اور اس نے منظور کر لیا تب بھی یہ مدت کا بیان کرنا لغو بلکہ ناجائز ہے، اگر اس کو (قرض دینے والے کو) اس مدت سے پہلے ضرورت پڑے اور تم سے مانگے یا بے ضرورت ہی مانگے تو تم کو ابھی دینا پڑے گا ۔ (بہشتی زیور، حصہ ۵/٤۰۷) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
قرض خواہ مدتِ متعینہ سے قبل طلب کر سکتا ہے، البتہ بلا ضرورت طلب کرنے کی صورت میں وعدہ خلافی کا گناہ ہوگا ۔ (احسن الفتاوی: ۷/۱۷۷، ط: سعید) ۔
لیکن مولانا خالد سیف اللہ صاحب نے لکھا ہے کہ قرض میں مدت کا اعتبار ہونا چاہیے ۔
ملاحظہ فرمائیں، قاموس الفقہ میں ہے:
قرض کی ادائیگی سے متعلق تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ کب قرض کی ادائیگی واجب ہو گی؟ حنفیہ، شوافع، حنابلہ کے نزدیک قرض میں جو مدت متعین کی جائے قرض دہندہ اس کا پابند نہیں ہے، کیوں کہ قرض ایک طرح کا تبرع ہے، اگر مدت کا لزوم ہو جائے تو پھر وہ تبرع باقی نہیں رہے گا، مالکیہ کے نزدیک فریقین اس مدت کے پابند ہوں گے اور قرض دہندہ کو مدت مقررہ سے پہلے قرض کے مطالبہ کا حق نہیں ہوگا، علامہ ابن قیم رحمه الله کا رجحان اسی طرف ہے واقعہ یہ ہے کہ مالکیہ کا قول اس مسئلہ میں زیادہ قرین صواب نظر آتا ہے اور قرآن و حدیث میں شرطوں اور وعدوں کی تکمیل کے سلسلہ میں جو ارشادات منقول ہیں ان کا تقاضہ یہی ہے، نیز یہ بات بھی ذہن رہنی چاہیے کہ جن فقہاء نے قرض میں معینہ مدت کی مہلت کو لازم قرار نہیں دیا ان کے یہاں بھی یہ حکم قضا ہے، دیانۃً ایفائے عہد تمام ہی فقہاء کے نزدیک واجب ہے، علامہ ابن تیمیہ رحمه الله کا رجحان بھی اس سلسلہ میں وہی ہے جو مالکیہ کا ہے ۔ (قاموس الفقہ: ٤/٤۹۲، بعنوان: قرض کی ادائیگی کب واجب ہو گی، ط: زمزم) ۔
عطر ہدایہ میں مرقوم ہے:
قرض میں مدت لازم کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ حاشیہ میں مرقوم ہے:
چوتھے لزوم بھی ممتنع نہیں ہو سکتا اس لیے کہ نفع مقروض ہے اور امام مالک رحمه الله سے مروی ہے کہ قاضی اگر مدت معین کر دے تو لازم ہو جائے گی ۔ البتہ قرض مجرد لزوم شرط کو نہیں چاہتا کیونکہ تبرع ہے، مگر وعدہ وغیرہ سے لزوم کا مضائقہ نہیں، پس یہ لزوم بمجرد قرض ہونے کے نہیں بلکہ وعدہ سے ہے اور فقہاء نے وعدہ کو بو جہ حاجت لازم مان ہی لیا ہے ۔ (حاشیہ عطر ہدایہ، ص ۲۹٤، ط: زمزم) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.