سلفی حضرات کا استدلال اور اس کا جواب:
Question
سلفی حضرات مرد اور عورت کی نماز کے فرق کے قائل نہیں ہے اور استدلال میں یہ حدیث پیش کرتے ہیں "
صلوا كما رأيتموني أصلي"
اس کا کیا جواب ہے؟
Answer
حدیث بالا کا جواب یہ ہے کہ اس میں دو احتمال ہیں (۱) یا تو اس حدیث میں مرد اور عورت دونوں کی نماز کا بیان ہے ۔ (۲) یا صرف مرد کی نماز کا بیان ہے ۔ اور یہ دوسرا معنی متعین ہے ان احادیث و آثار کی وجہ سے جو مرد اور عورت کی نماز کے فرق پر دلالت کرتی ہیں جو پہلے ذکر کی جا چکی ۔
نیز مرد اور عورت کی نماز کا فرق بہت ساری چیزوں میں پایا جاتا ہے حتی کہ شرائط میں بھی جس کا انکار سلفی حضرات بھی نہیں کر سکتے ۔
ملاحظہ ہو: (۱) مرد عورت کے ستر میں فرق ہے ۔ اور ستر کا چھپانا شرائط نماز میں سے ہے ۔
حدیث شریف میں ہے:
عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: قال رسول الله ﷺ: "لا يقبل الله صلاة حائض إلا بخمار" رواه الترمذي وقال: حديث عائشة رضي الله تعالى عنها حديث حسن، والعمل عليه عند أهل العلم أن المرأة إذا أدركت فصلت وشيء من شعرها مكشوف لا تجوز صلاتها. (ترمذي شريف: ۱/۸٦، باب ما جاء لا تقبل صلاة حائض إلا بخمار. ورواه أبو داود: ۱/۹٤، باب المرأة تصلي بغير خمار)
نیز مردوں کے لیے اسبالِ ازار مکروہ تحریمی ہے اور عورتوں کے لیے ضروری ہے تاکہ قدمین کے اوپر کا حصہ چھپا رہے ۔ ملاحظہ ہو ابو داؤد شریف میں ہے:
عن أم سلمة رضي الله تعالى عنها أنها سألت النبي ﷺ أتصلي المرأة في درع وخمار ليس عليها إزار قال: إذا كان الدرع سابغاً يغطي ظهور قدميها. (رواه أبو داود: ۱/۹٤، باب في كم تصلي المرأة)
(۲) مردوں کے لیے نماز باجماعت مسجد میں سنتِ مؤکدہ ہے واجب کے قریب، اور عورتوں کے لیے گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے، بلکہ اس زمانہ میں تو گھر ہی میں پڑھنا ضروری ہے ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن أم سلمة رضي الله تعالى عنها قالت: قال رسول الله ﷺ: صلاة المرأة في بيتها خير من صلاتها في حجرتها وصلاتها في حجرتها خير من صلاتها في دارها وصلاتها في دارها خير من صلاتها خارج. رواه الطبراني في الأوسط ورجاله رجال الصحيح خلا زيد بن مهاجر. (مجمع الزوائد: ۲/۳٤، باب خروج النساء إلى المساجد)
وعن ابن مسعود رضي الله عنه قال: صلاة المرأة في بيتها أفضل من صلاتها في حجرتها وصلاتها في حجرتها أفضل من صلاتها في دارها وصلاتها في دارها أفضل من صلاتها فيما سواها ثم قال: إن المرأة إذا خرجت استشرفها الشيطان. رواه الطبراني في الكبير ورجاله رجال الصحيح. (مجمع الزوائد: ۲/۳٤، باب خروج النساء إلى المساجد، دار الفكر)
(۳) نماز جمعہ مردوں کے لیے ہے نہ کہ عورتوں کے لیے ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن طارق بن شهاب عن النبي ﷺ قال: الجمعة حق واجب على كل مسلم في جماعة إلا أربعة عبد مملوك أو امرأة
قال أبو داود: طارق بن شهاب قد رأي النبي ﷺ ولم يسمع منه شيئاً. (رواه أبو داود: ۱/۱٥۳، باب الجمعة للمملوك والمرأٰ، سعيد)
وفي ا لتعليق المحمود على سنن أبي داود: وقال البيهقي رحمه الله: في المعرفة هذا هو المحفوظ مرسل وهو مرسل جيد وقد أسنده عبيد الله بن محمد العجلي فقال: عن طارق عن موسى. (التعليق المحمود على سنن أبي داود: ۱/۱٥۳)
(٤) عورت نہ اذان دے سکتی ہے نہ اقامت ۔
قال ابن عمر رضي الله عنه ليس على النساء أذان. (مصنفِ ابن أبي شيبة: ۳/۱۲۷)
(۵) تنبیہ کے لیے مرد تسبیح پڑھے اور عورت تسبیح نہ پڑھے بلکہ ہاتھ پر ہاتھ مارے ۔
بخاری شریف میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: التصفيق للنساء والتسبيح للرجال. (رواه البخاري: ۱/۱٦۰/۱۱۸۹، باب التصفيق للنساء، فيصل)
(٦) نبی پاک ﷺ مغرب عشاء اور فجر میں جہراً قراءت فرماتے تھے ۔ تو کیا ان اعتراض کرنے والوں کی عورتیں بھی جہر کرتی ہیں؟ اگر کرتی ہیں تو کیا یہ صحابیات سے ثابت ہے؟
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/444
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-444