میت کی تجہیز و تکفین کسی کمپنی سے کرانے کا حکم:
Question
ایک شخص ایک کمپنی میں ملازم ہے اس کمپنی میں تجہیز و تکفین کی پولسی (policy) ہے، یعنی جب اس کا یا اس کے اہل و عیال میں سے کسی کا انتقال ہو جائے تو وہ کمپنی اپنی طرف سے تجہیز و تکفین کا خرچہ دیتی ہے تو اس کا استعمال کرنا درست ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں تجہیز و تکفین کی پولسی (policy) پر جو رقم ملتی ہے وہ حکومت یا کمپنی کی طرف سے عطیہ اور ایک قسم کا تعاون ہے لہذا اس کا وصول کرنا اور استعمال کرنا درست ہے جس طرح پر اویڈنٹ فنڈ بونس اور پینشن وغیرہ کی رقم لینا شرعاً درست ہے ۔ ملاحظہ ہو کفایت المفتی میں ہے:
جو رقم تنخواہ سے لازمی طور پر کاٹ لی جاتی ہے اور جو رقم کہ بونس کے نام سے بڑھائی جاتی ہے اور جو رقم کہ ان دونوں رقموں پر سود کے نام سے لگائی جاتی ہے ان تینوں رقموں کو لے لینا مسلم ملازمین یا ان کے ورثاء کے لیے جائز ہے بونس تو عطیہ ہی ہے مگر وہ رقم جو سود کے نام سے لگائی جاتی ہے شرعاً سود کی حد میں داخل نہیں وہ بھی عطیہ ہی کا حکم رکھتی ہے ۔ (کفایت المفتی: ۸/۹٦، کتاب الربا، دار الاشاعت)
دوسری جگہ مرقوم ہے:
پینشن جو ملازم کو ملازمت سے سبکدوشی پر ملتی ہے جائز ہے ۔ (کفایت المفتی: ۸/۹۷، کتاب الربا، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
فصلِ دوم
میت کو غسل دینے کا بیان
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/840
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-840