مہر وصول ہونے سے قبل زکوٰۃ کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #59Urdu

Question

اگر کسی عورت کا مہر شوہر کے ذمہ واجب ہو اور ابھی تک ادا نہیں کیا تو عورت پر اس کی زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں مہر وصول ہونے سے پہلے زکوٰۃ لازم نہیں ہے ۔
البحر الرائق میں ہے:

قسم أبو حنيفة رحمه الله الدين على ثلاثة أقسام قوي

وضعيف

وهو بدل ما ليس بمال كالمهر والوصية وبدل الخلع

وفي الضعيف لا تجب ما لم يقبض نصاباً ويحول الحول بعد القبض عليه. (البحر الرائق: ۲/۲۰۷، كوئٹه، والشامي: ۲/۳۰٦، باب زكاة المال، سعيد، والفقه على المذاهب الأربعة: ۱/۹٦۱).

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
زکوٰۃ اس پر قبل الوصول واجب نہیں ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ٦/۵۷ ۔ و ایضاح النوادر: حصۂ دوم: ۱۱) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
مرد جب دینِ مہر عورت کو دے دے اور وہ مقدارِ نصاب ہو اور اس پر سال بھی گزر جائے تب عورت کے ذمہ اس کی زکوٰۃ واجب ہو گی، اگر وہ مقدارِ نصاب نہیں بلکہ اس سے کم ہے اور عورت کے پاس اتنی مقدار موجود ہے جس کو مہر کے ساتھ ملا کر پورا نصاب ہو سکتا ہے تو اس کو ملا کر زکوٰۃ ادا کی جائے گی، اگر نصاب پورا نہیں ہو سکتا تو اس پر زکوٰۃ نہیں اسی طرح وصول ہونے سے پہلے زکوٰۃ واجب نہیں ۔ (فتاوی محمودیہ: ۹/۳۷۷، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.