نابالغ لڑ کے کا مال باپ کے پاس بطورِ قرض ہو تو بالغ ہونے کے بعد زکوٰۃ کا حکم:
Question
ایک شخص اپنے نابالغ لڑ کے سے ایک مدت تک قرضہ کے طور پر پیسے لیتا رہا اس نیت سے کہ واپس کروں گا، قرضہ لینے کے بعد ایک مدت گذر گئی یہاں تک کہ بچہ بالغ ہو گیا اور اس مدت میں باپ نے اس رقم کی زکوٰۃ ادا نہیں کی تھی، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس رقم پر زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں اس رقم کا حکم بعینہ قرض کی طرح ہے یعنی جب وصول ہو جائے تب زکوٰۃ ادا کرے اور بلوغ کے بعد سے جتنے سال گزر ے تمام کی ادا کرنا لازم ہے، ہاں بالغ ہونے سے پہلے کی زکوٰۃ لازم نہیں ہے اور سال کی ابتداء بلوغ سے شمار ہو گی۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وكذا الصبي إذا بلغ يعتبر ابتداء الوقت من وقت بلوغه. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۷۲).
مراقی الفلاح میں ہے:
وزكاة الدين على أقسام: فإنه قوي ووسط وضعيف؛ فالقوي هو بدل القرض ومال التجارة إذا قبضه وكان على مقر ولو مفلساً أو على جاحد عليه بينة زكاه لما مضى ويتراخى وجوب الأداء إلى أن يقبض أربعين درهماً، ففيها درهم، لأن ما دون الخمس من النصاب عفو لا زكاة فيه وكذا فيما زاد بحسابه. (مراقي الفلاح: ۲٦۲، كتاب الزكاة، بيروت، كذا في الشامي: ۲/۳۰۵، سعيد).
محیطِ برھانی میں ہے:
إذا قبض منها أربعين درهماً يجب عليه الأداء بقدر ما قبض، هذا كله قول أبي حنيفة رحمه الله. (المحيط البرهاني: ۳/۲٤٦).
مزید ملاحظہ: شامی: ۲/۳۰۵، البحر الرائق: ۲/۳۰۷، فتح القدیر: ۲/۱٦۷، الہندیۃ: ۱/۱۷۲، احسن الفتاوی: ٤/۲٦۱، فتاوی دار العلوم دیوبند: ٦/۱۵۲، جدید فقہی مسائل: ۱/۲۱۲، فتاوی مفتی محمود: ۳/۲۳۳ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/954
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-954