پرائز بانڈ پر وجوبِ زکوٰۃ کا حکم:
Question
ہمارے بنگلہ دیش میں پرائز بانڈ (prize bond) کا بہت دستور ہے، بینک سے ۱۰۰ ٹاکا دے کر سو ٹاکا کا بونڈ لیتے ہیں، ہر دو مہینے میں ایک مرتبہ بینک قرعہ اندازی کر کے چند افراد کو انعام بھی دیتا ہے، میں نے ان سے پچاس ہزار ٹاکا کا بونڈ لیا، گزشتہ چند سال سے وہ بونڈ میرے پاس موجود ہے اور انعام حاصل کرنے کی امید میں میں نے وہ بونڈ واپس نہیں کیا، اب مجھے پیسے کی ضرورت پڑی اور میں نے اس بونڈ کو واپس کیا اور اپنا پیسہ واپس لے لیا، دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا مجھ پر گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟ اور اس بونڈ پر انعام لینے کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ آپ کا مال بینک کے پاس بطورِ قرض تھا اور قرض کا حکم یہ ہے کہ وصولی کے بعد گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ بھی ادا کرنا لازم ادا کرنا لازم ہے ۔ ملاحظہ ہو مراقی الفلاح میں ہے:
وزكاة الدين على أقسام فإنه قوي ووسط وضعيف؛ فالقوي وهو بدل القرض ومال التجارة، إذا قبضه وكان على مقر ولو مفلساً
زكاة لما مضى ويتراخى وجوب الأداء إلى أن يقبض أربعين درهماً ففيها درهم لأن ما دون الخمس من النصاب عفو لا زكاة فيه وكذا فيما زاد بحسابه
(مراقي الفلاح مع حاشية الطحطاوي، ص۷۱۵، قديمي). وكذا في بدائع الصنائع: ۲/۱۰، سعيد).
پرائز بانڈ پر انعام حاصل کرنے سے متعلق تفصیلی بحث ملاحظہ کیجیے: (فتاوی دار العلوم زکریا جلدِ پنجم، ص ٤۷٤۔ ۴۷٦، ط: زمزم پبلشرز) ۔
یہاں اتنا سمجھ لیں کہ سو ٹاکا کے عوض ہزاروں ٹاکا وصول کرنا جائز نہیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1368
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1368