شہد کی مکھیوں میں عشر کا حکم:
Question
بعض لوگ شہد کی مکھیوں کو پالتے ہیں اور ان کے لئے خاص جگہ بناتے ہیں اور مشقت اٹھاتے ہیں کیا ایسی مکھیوں کے شہد میں عشر ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں شہد کی مکھیوں میں عشر لازم ہے، کیوں کہ جب عشر کے وجوب کی علت یہ لکھی ہے کہ مکھیاں پھول اور پھل کھاتی ہیں اور پھل اور پھول اکثر لگائے جاتے ہیں تو معلوم ہوا کہ جو پھول اور پھل لگائے جائیں اور ان کی حفاظت ہو ان میں بھی عشر ہے ۔
ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:
قوله يجب في عسل أرض العشر ومسقي سماء وسيح بلا شرط نصاب وبقاء إلا الحطب والقصب والحشيش أي يجب العشر فيما ذكر أما في العسل فللحديث "في العسل العشر" ولأن النحل يتناول من الأنوار والثمار وفيهما العشر فكذا فيما يتولد منهما. (البحر الرائق: ۲/۲۳۷، باب العشر، كوئٹه، وكذا في الشامي: ۲/۳۲۵، سعيد، والمبسوط: ۲/۲۱٦، إدارة القرآن)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
ويجب العشر في العسل إذا كان في أرض العشر. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۸٦، وكذا في فتاوى قاضيخان: ۱/۲۷٦).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/992
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-992