خشخاش اور افیون کی کاشت میں وجوبِ عشر کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #245Urdu

Question

خشخاش کی پیداوار میں عشر واجب ہے یا نہیں؟ اگر واجب ہے تو دانہ پر یا اس کی ڈنڈی اور چھلکے پر بھی؟ نیز افیون جو مشہور نشہ آور چیز ہے اور دوائیوں بھی بکثرت استعمال ہوتی ہے، اس میں عشر واجب ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

خشخاش کے دانہ اور افیون مقصود ہوتے ہیں، اس وجہ سے ان کی پیداوار میں عشر واجب ہے لیکن ڈنڈی اور چھلکے مقصود نہیں ہوتے بایں وجہ ان پر عشر واجب نہیں ۔ ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں مرقوم ہے:

من شرائط المحلية:

ومنها أن يكون الخارج من الأرض مما يقصد بزراعته نماء الأرض وتستغل به عادة فلا عشر في الحطب والحشيش والقصب الفارسي لأن هذه الأشياء لا تستنمى بها الأرض ولا تستغل بها عادة لأن الأرض لا تنمو بها بل تفسد فلم تكن نماء الأرض

ويجب في قصب السكر وقصب الذريرة لأنه يطلب بهما نماء الأرض فوجد شرط الوجوب فيجب. (بدائع الصنائع: ۲/۵۸، سعيد).
قال في البحر الرائق: كل ما لا يقصد به استغلال الأرض لا يجب فيه العشر مثل السعف والتبن، وكذا كل حب لا يصلح للزراعة كبزر البطيخ والقثاء لكونها غير مقصودة في نفسها، وكذا لا عشر فيما هو تابع للأرض كالنحل والأشجار. (البحر الرائق: ۲/۲۵٦، دار الكتاب الإسلامي). للمزيد راجع: (فتاوى الشامي: ۲/۳۲۷، سعيد، والمحيط البرهاني: ۲/٤۸٦، ط: رشيديه، والفتاوى ٦

الهندية: ۱/۱۸٦، والجوهرة النيرة: ۱/۱۲۵).

فتاوی فریدیہ میں مرقوم ہے:
چونکہ خشخاش اور افیم دونوں مقصود ہوتے ہیں اس لیے ان دونوں میں عشر واجب ہو گا بخلاف اس کی ڈنڈی اور چھلکے کے ۔ (فتاوی فریدیہ: ۳/٤٦۳) ۔
خیر الفتاوی میں مذکور ہے:
وجوبِ عشر اور عدمِ وجوبِ عشر کا مدار اس پر ہے کہ جو چیز زمین کی کاشت سے مقصود ہوتی ہے اس چیز پر عشر واجب ہوتا ہے اور جو چیز اس کے ساتھ تبعاً حاصل ہو جائے اس پر عشر واجب نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ گندم میں عشر واجب ہے اور بھوسہ میں عشر نہیں ہے کیوں کہ زمین کی کاشت گندم ہی کے لیے کی جاتی ہے بھوسہ اس کے ساتھ تبعاً حاصل ہوتا ہے لیکن اگر کسی نے بھوسہ ہی کے لیے زمین کی کاشت کی ہے تو پھر اس میں عشر واجب ہو گا ۔ (خیر الفتاوی: ۳/٤۹٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.