افیون کی تجارت کا حکم:
Question
افیون کی تجارت جائز ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ افیون کی تجارت جائز و درست ہے یہ بعینہٖ شراب کے حکم میں نہیں ہے اور اس میں منافع ہیں کہ دوا وغیرہ میں استعمال ہوتی ہے، اور قاعدہ ہے کہ جس چیز کا جائز استعمال ممکن ہو اس کی تجارت جائز اور درست ہے ۔ ہاں جس شخص کے بارے میں غالب گمان ہو کہ وہ ناجائز طور پر استعمال کرے گا تو اس کے ہاتھ بیچنا مکروہ ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں در مختار میں ہے:
وصح بيع غير الخمر ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون. وفي الشامية: قوله وصح بيع غير الخمر أي عنده خلافاً لهما في البيع والضمان، لكن الفتوى على قوله في البيع. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ٦/٤۵٤، كتاب الأشربة، سعيد).
وفي حاشية الطحطاوي على الدر: ويجوز بيعها ويضمن متلفها قيمتها عنده وقالا: لا يجوز البيع ولا يضمن المتلف وعن أبي يوسف رحمه الله يجوز بيعها إذا طبخ فذهب أكثر من النصف وأقل من الثلثين والفتوى على قوله في البيع. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۲۲۵، كوئته).
کفایت المفتی میں ہے:
افیون کی خرید و فروخت شرعاً جائز ہے گو قانون وقت اس کو لائسنس کے ساتھ جائز رکھتا ہے مگر شرع میں یہ قید نہیں ہے اس کی قیمت کے پیسے جائز اور حلال ہیں ۔ (کفایت المفتی: ۹/۱۲٤، کتاب الحظر و الاباحۃ) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
زمان سابق میں افیون تداوی میں بکثرت استعمال نہیں ہوتی تھی بلکہ عموماً تلہی کے طور پر استعمال کی جاتی تھی، اس لیے بعض فقہاء رحمہم اللہ تعالی نے اس کی بیع کو مکروہ تحریر فرمایا ہے، مگر آج کل افیون دواء کے طور پر کثرت سے استعمال ہونے لگی ہے اور علاج میں بڑی اہمیت اور شہرت حاصل کر چکی ہے، بلکہ ضرورتِ شدیدہ کی حد تک پہنچ گئی ہے، لہذا اس کی بیع بلا کراہت جائز ہے، البتہ جس شخص کے بارے میں ظن غالب ہو کہ وہ تلہی کے طور پر استعمال کرے گا اس کے ہاتھ بیچنا مکروہِ تحریمی ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٦/٤۹٤) ۔
مفتی تقی صاحب فرماتے ہیں:
بیع کے بارے میں یہ اصول ہے کہ جس شے کا کوئی جائز استعمال ممکن ہو اس کی بیع جائز ہے چاہے وہ چیز عام طور سے ناجائز کام میں استعمال ہوتی ہو ۔ یعنی اب یہ مشتری کا کام ہے کہ اس کو جائز مقصد کے لیے استعمال کرے ۔ (اسلام اور جدید معاشی مسائل: ٤/۱۷) ۔
دوسری جگہ رقم طراز ہے:
افیون نشہ آور ہے اور عام حالات میں اس کا استعمال جائز نہیں ہے، لیکن اس کی بیع جائز ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ افیون کا جائز استعمال بھی ممکن ہے، یعنی دواؤں کے اندر، علاج میں، بیرونی استعمال میں، لیپ وغیرہ کرنے کے لیے اس کا استعمال ممکن ہے، لہذا اس کی بیع جائز ہے ۔ (اسلام اور جدید معاشی مسائل: ٤/۱۳) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی محمودیہ: ۱٦/۱۲۳، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1886
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1886