زکوٰۃ واجب ہونے کے بعد انتقال کر جانے پر ادائیگی کا حکم:

4 min readFatwa Vol 3 #109Urdu

Question

اگر کسی پر زکوٰۃ واجب ہوئی، ادائیگی سے پہلے اس کا انتقال ہو گیا تو کیا مرنے کے بعد اس کے مال میں سے زکوٰۃ نکالی جائے گی یا نہیں؟

Answer

اس مسئلہ کی چند صورتیں ہیں: (۱) زکوٰۃ واجب ہوئی اور ادا کرنے سے پہلے مر گیا تو اس کی موت کے بعد اس کے مال میں سے زکوٰۃ نہیں نکالی جائے گی، اس لیے کہ زکوٰۃ کے لیے نیت شرط ہے اور یہاں مفقود ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:

إذا مات من عليه الزكاة سقطت الزكاة بموته، كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۷٦).

در مختار میں ہے:

وشرط صحة أدائها نية مقارنة له أي للأداء ولوحكماً. (الدر المختار: ۲/۲٦۸، سعيد).

(۲) اگر میت نے وصیت کی تھی کہ میرے مال کی زکوٰۃ نکال دینا اور زکوٰۃ کی مقدار ثلث سے کم یا برابر ہے تو ورثاء پر زکوٰۃ ادا کرنا لازم اور ضروری ادا کرنا لازم اور ضروری ہے ۔
(۳) انتقال سے پہلے زکوٰۃ کی رقم علیحدہ کر کے رکھ لی یا وکیل کو دے دی پھر ادائیگی سے پہلے انتقال ہو گیا، اگر میت نے وصیت کی تھی تو کل مال کے ثلث سے ادا کر دی جائے گی ۔ اور اگر وصیت نہیں کی تھی تو علیحدہ رقم ترکہ میں شمار ہو کر ورثہ کے درمیان تقسیم ہو گی، کیوں کہ مزکی مؤکل کی موت سے وکیل معزول ہو گیا، لہذا اب اس کا تصرف صحیح نہیں ہوگا ۔ (مستفاد از احسن الفتاوی: ٤/۲٦۵) ۔(۳) انتقال سے پہلے زکوٰۃ کی رقم علیحدہ کر کے رکھ لی یا وکیل کو دے دی پھر ادائیگی سے پہلے انتقال ہو گیا، اگر میت نے وصیت کی تھی تو کل مال کے ثلث سے ادا کر دی جائے گی ۔ اور اگر وصیت نہیں کی تھی تو علیحدہ رقم ترکہ میں شمار ہو کر ورثہ کے درمیان تقسیم ہو گی، کیوں کہ مزکی مؤکل کی موت سے وکیل معزول ہو گیا، لہذا اب اس کا تصرف صحیح نہیں ہوگا ۔ (مستفاد از احسن الفتاوی: ٤/۲٦۵) ۔
در مختار میں ہے:

ولو مات فأداها وارثه جاز، وفي الشامي: "جاز" في الجوهرة: إذا مات من عليه زكاة، أو فطرة أو كفارة أو نذر لم تؤخذ من تركته عندنا، إلا أن يتبرع ورثته بذلك وهو من أهل التبرع ولم يجبروا عليه، وإن أوصي تنفذ من الثلث. (الشامي: ۲/۳۵۹، سعيد).

نیز مذکور ہے:

ولا يخرج عن العهدة بالعزل بل بالأداء للفقراء أو تصدق بكله، وفي الشامي: فلو ضاعت لا تسقط عنه الزكاة ولو مات كانت ميراثاً عنه. (شامي: ۲/۲۷۰، سعيد).

(٤) اور اگر میت نے زکوٰۃ کی وصیت نہیں کی تھی لیکن بالغ وارث اپنے حصہ سے اپنے مرحوم مورث کی طرف سے زکوٰۃ ادا کرنا چاہے ادا کرنا چاہے تو امید ہے کہ اللہ تعالی قبول فرما کر میت کا ذمہ فارغ کر دیں گے ۔
شامی میں ہے:

إلا أن يتبرع ورثته بذلك وهم من أهل التبرع، ولم يجبروا عليه. (شامي: ۲/۳۵۹، سعيد).

کتاب الفتاوی میں ہے:
اگر کسی کے ذمہ زکوٰۃ واجب تھی نہ خود اس نے ادا کی اور نہ اس کے لیے وصیت کی تو اس کے ورثاء پر زکوٰۃ کی ادائے گی واجب نہیں لیکن اخلاقی اور احسانی حکم یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، ورثہ اس کی طرف سے زکوٰۃ ادا کرنے کی کو شش کریں، کہ ممکن ہے کہ اس کی وجہ سے اللہ تعالی اس کو معاف فرما دیں
"وما ذلك على الله بعزيز". (
کتاب الفتاوی: ۳/۳۳٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.