تحریری طلاق معلق کرنے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 4 #84Urdu

Question

میری اہلیہ اور والدین کا ہمیشہ جھگڑا رہتا ہے، والدین کی شکایت رہتی ہے کہ تمہاری اہلیہ کام کاج وغیرہ نہیں کرتی، اور والدین گھر میں رکھنا نہیں چاہتے، اور والد صاحب نے مجھ کو خط لکھا کہ میں اپنی اہلیہ کو شرطیہ طلاق دے دوں، اور اگر نہ دوں تو والدین ناراض رہیں گے، حالانکہ میرا اور اہلیہ کا کوئی جھگڑا نہیں، بلکہ ہم اچھی طرح زندگی گزارتے ہیں، اور میری اولاد بھی ہیں، نیز شرطیہ طلاق کی تحریر والد صاحب نے خود لکھ کر مجھے دی ہے کہ میں نقل کر کے اہلیہ کو پہنچا دوں، والد صاحب کی تحریر حسبِ ذیل درج کر رہا ہوں:
عبرت نامہ
میری بیوی شمیمہ خاتون بنت نصیر الدین خوب غور سے سنو تم میری بیوی ہو میں تم کو خرچہ دوں گا جہاں تم رہو گی، لیکن تم نے میری غیر موجودگی میں میرے والدین کے گھر میں چند ہفتے کے لیے مالکانہ تصرف کر کے میرے والدین کو روحی اور جسمانی تکلیف و اذیت پہنچائی ہے اس سے مجبور ہو کر وہ مجھ کو اپنی ملکیت سے محروم کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے میں ان کی بات اور شرط کو ماننے پر مجبور ہوں کہ تم اپنی پوری زندگی بھر میں میرے والدین کے ملکیت والے گھر و زمین پر قدم رکھو گی تو تم کو فوراً اسی وقت طلاق، طلاق، طلاق ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا میرے لیے گنجائش ہے کہ میں والدین کو راضی کرنے کے لیے یہ تحریر والدین کو نقل کر دوں اور کہ دوں کہ میں نے اہلیہ کو لکھ کر بھیج دیا، اور میں اپنی اہلیہ سے اس کے بارے میں کوئی تذکرہ نہ کروں تو یہ شرطیہ طلاق معلق ہو گی یا نہیں؟ اور شرط کے پائے جانے پر واقع ہو گی یا نہیں؟ برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں ۔

Answer

زبانی طلاق کی طرح تحریری طلاق بھی معلق ہو جاتی ہے، اور شرط کے پائے جانے پر طلاق واقع ہو جاتی ہے، بنا بریں اگر آپ نے والدین کو طلاق نامہ لکھ دیا اگر چہ اہلیہ کونہ لکھا اور نہ کوئی تذکرہ کیا پھر بھی طلاق معلق ہو جائے گی، اور والدین کی زندگی میں آپ کی اہلیہ والدین کے گھر جائے گی تو تین طلاق واقع ہو جائے گی، لہذا آپ طلاق نامہ والدین کو بھی نہ لکھیں، ہاں اگر توریہ کر کے والدین سے یہ کہیں کہ بالکل میں نے بیوی کو خط لکھا ہے، اور خط کا مضمون نہ بتائے اور نہ یہ بتائے کہ میں نے بیوی کو طلاق معلق دی ہے، اور اس خط پر احتیاطاً گواہ بھی رکھ لے تو پھر طلاق واقع نہیں ہو گی، کیوں کہ آپ نے طلاق نامہ لکھا ہی نہیں ۔
ملاحظہ فرمائیں ہدایہ میں ہے:

وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لا مرأته إن دخلت الدار فأنت طالق. (الهداية: ۲/۳۸۵).

در مختار میں ہے:

كتب الطلاق إن مستبيناً على نحو لوح وقع إن نوى وقيل مطلقاً. وفي الشامية: قوله كتب الطلاق) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدراً ومعنوناً مثل ما يكتب إلى الغائب وغير المرسومة أن لا يكون مصدراً ومعنوناً، وهو على وجهين مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراء ته، وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكن فهمه وقراء ته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أولم ينو، ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة، وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاء ك كتابي فأنت طالق فجاء ها الكتاب فقرأ ته أولم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة. قوله مطلقاً المراد به في الموضعين نوى أولم ينو. (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۲٤٦، مطلب في الطلاق بالكتابة، سعيد. وكذا في حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۲/۱۱۱، كوئته).

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
طلاق لکھنے اور لکھانے سے بھی واقع ہو جاتی ہے اور طلاق کے اندر جد و ہزل برابر ہے یعنی جعلی طور سے یا مذاق سے بھی اگر طلاق دی جاوے یا دوسرے سے کہ دے کہ طلاق لکھ دے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۹/۱٤٦، مدلل مکمل) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
وقوع طلاق کے لیے طلاق نامہ کا عورت تک پہنچنا شرط نہیں صرف لکھنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے اور جس قسم کی طلاق لکھوائی ہے اس قسم کی واقع ہو گی ۔ (احسن الفتاوی: ۵/۱٤۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.