طبیب کی غلطی پر تاوان کا حکم:
Question
ایک ڈاکٹر نے دانت نکالنے میں غلطی کی اور اس کی غلطی ظاہر بھی ہو گئی اس طبیب نے اپنی غلطی کو پوشیدہ رکھنے اور اس پر پردہ ڈالنے کے لئے دس ہزار رینڈ مریض کو ادا کیے کیا مریض یہ رقم ڈاکٹر سے لے سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
جس ڈاکٹر کو قانوناً علاج و معالجہ کی اجازت ہے اس نے اگر کسی مریض کا علاج کیا لیکن اس نے طبی احتیاط ملحوظ نہیں رکھی تو ڈاکٹر مریض کو پہنچنے والے نقصان کا یا اس کی جان کے تاوان کا ضامن ہوگا ۔ اس لئے کہ اس نے شرط کی تکمیل نہیں کی، اس کی ذمہ داری تھی کہ مریض کے علاج میں طبی تمام رعایتیں ملحوظ رکھتا، اور اس کے ضروری تقاضوں کو پورا کرتا، لیکن اس نے ایسا نہ کر کے غلطی کی، اس لئے وہ ضمان ہوگا ۔ (طبی اخلاقیات، ص ۱۲۸، مرتبہ قاضی مجاہد) ۔
ہدایہ میں ہے:
وإذا فصد الفصاد أو بزغ البزاغ ولم يتجاوز الموضع المعتاد فلا ضمان عليه، وعلى هامشه ولو تجاوز الموضع المعتاد ضمن. (الهداية مع الحاشية ۳/ ۳۱۰).
مجمع الضمانات میں ہے:
الفصاد والبزاغ والحجام والختان لا يضمنون بسراية فعلهم إلى الهلاك إذا لم يجاوز الموضع المعتاد المعهود المأذون فيه وهي معروفة
قال في الفصولين هذا إذا فعلوا فعلا معتادا ولم يقصروا في ذلك العمل
أما لو فعلوا بخلاف ذلك ضمنوا
استأجر حجاما ليقلع له سنا فقلع فقال صاحب السن: ما أمرت بقلع هذا، كان القول قوله، ويضمن القالع إرش السن. (مجمع الضمانات: ۱/۱٤۵، ۱٤٦، الفرع العاشر، دار السلام).
اہم فقہی فیصلہ میں مذکور ہے:
اگر کسی مستند معالج نے علاج میں کوئی کوتاہی کی اور اس کی وجہ سے مریض کو ضرر پہنچ گیا تو معالج ضامن ہوگا ۔ (اہم فقہی فیصلے از قاضی مجاہد الاسلام، ص ۸٤) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ طبیب کی غلطی کی وجہ سے ۱۰ ہزار رینڈ لینا مریض کے لئے جائز اور درست ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1779
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1779