امانت کم ہونے پر تاوان کا حکم:
Question
خالد نے بکر کے ہاں کچھ رقم امانت کے طور پر رکھنے کی درخواست کی، بکر نے انکار کیا، پھر خالد کے اصرار کرنے پر بکر نے وہ رقم ایک محفوظ جگہ پر رکھ دی، کافی دنوں کے بعد خالد نے وہ رقم طلب کی بکر نے وہ رقم نکال کر خالد کے سپرد کر دی جب خالد نے دیکھی تو کچھ کم نظر آئی، بکر کہتا ہے کہ میں نے اس رقم کو کبھی ہاتھ نہیں لگایا، اب اس کا کون ذمہ دار ہوگا؟
Answer
امانت کا حکم یہ ہے کہ اگر امین کی غفلت یا تساہلی کے بغیر کم ہو گئی یا ضائع ہو گئی، تو امین پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے، لیکن اگر اس نے تفریط یا تعدی کی یعنی رقم کی حفاظت میں تساہلی کی یا مودِع کی ہدایت کے خلاف اس نے کوئی قدم اٹھایا یا اس کو مودِع کی اجازت کے بغیر استعمال کر لیا تو ان تمام صورتوں میں اس کو تاوان دینا پڑے گا۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر بکر اپنے بیان میں سچا ہے، اور امانت جہاں رکھی تھی وہاں سے نہیں ہٹائی گئی اور خالد امانت کو وہاں رکھنے پر راضی تھا، تو بکر اس کا ذمہ دار نہیں، حدیث شریف میں ہے: آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا: عاریت پر سامان لینے والے اور امین سے اگر دھوکہ دیے بغیر سامان ضائع ہو جائے اور اس میں اس نے کوئی خیانت بھی نہ کی ہو تو وہ اس کا ذمہ دار نہ ہوگا۔
دار قطنی میں ہے:
عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن النبي ﷺ قال: "ليس على المستعير غير المغل ضمان، ولا على المستودع غير المغل ضمان. (رواه الدارقطني: ۳/٤۱/۱٦۸).
تبیین الحقائق میں ہے:
الإيداع هو تسليط الغير على حفظ ماله والوديعة ما يترك عند الأمين
وهي أمانة فلا تضمن بالهلاك لقوله عليه الصلاة والسلام: "لا ضمان على مؤتمن". رواه الدارقطني، ولأن المودع متبرع في الحفظ وما على المحسنين من سبيل ولأن يده يد المالك فيكون هلاكها في يد المالك فلا يجب الضمان ولأن للناس حاجة إلى الإيداع فلو ضمن المودع لامتنع الناس عن قبول الودائع فكانوا يحرجون بذلك. (تبيين الحقائق: ۵/۷٦، كتاب الوديعة، ملتان).
شرح مجلہ میں ہے:
الوديعة أمانة في يد الوديع فإذا هلكت بلا تعد من المستودع وبدون صنعه وتقصيره في الحفظ لا يلزم الضمان. (شرح المجلة، لمحمد خالد الأتاسي: ۳/۲٤۲، المادة: ۷۷۷).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2122
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2122