خیراتی رقم ضبط ہونے پر تاوان کا حکم:

5 min readFatwa Vol 5 #259Urdu

Question

ایک شخص دوسرے ملک مثلاً ہندوستان میں عرصہ دراز سے خیراتی کام کرتا ہے، اور یہ شخص انگلینڈ یا افریقہ میں رہتا ہے، بہت سے لوگ زکوۃ، للہ وغیرہ کی رقوم دیتے ہیں، بعض لوگ بطورِ امانت کچھ رقوم اس کے پاس رکھتے ہیں، وہ شخص دوسرے ملک مثلاً ہندوستان میں جانے سے پہلے انگلینڈ یا افریقہ سے رقوم بھیج دیتا ہے، اس کا ایک معاون دوست ان رقوم کو ہندوستان میں وصول کر کے اپنے گھر میں محفوظ جگہ پر رکھ دیتا ہے، یہ کاروائی حفاظت کی غرض سے ہے، چند ہفتے پہلے پولیس نے کسی شبہہ کی وجہ سے ہندوستان میں اس کے گھر کی تلاشی لی، اس کے معاون کو گرفتار کر لیا اور تمام رقوم ضبط کر لی، اب کیا حکم ہے؟ کیا رقم بھیجنے والا ان رقوم کا ذمہ دار ہے یا نہیں؟ نیز مزکین پر دوبارہ زکوۃ ادا کرنا لازم ادا کرنا لازم ادا کرنا لازم ہے یا نہیں؟
بينوا توجروا ولكم الأجر الجزيل.

Answer

کسی شخص کے پاس کوئی امانت رکھی جائے تو شرعاً اس کا حکم یہ ہے کہ امین پر حتی الامکان حفاظت کرنا ضروری ہے، لہذا اگر بغیر زیادتی، غفلت اور تساہل و سستی کے ہلاک ہو جائے یا ضائع ہو جائے تو امین پر تاوان نہیں آئے گا، لیکن اگر مودَع نے حفاظت میں کوتاہی کی غفلت برتی اور تعدی کی تو مودَع اس کا ضامن ہوگا، اسی طرح اگر کسی نے کسی کو کوئی چیز پہنچانے کا وکیل بنایا اس کا حکم بھی امین کی طرح ہے، بغیر کوتاہی کے وکیل کے پاس مال ہلاک ہو جائے یا ضائع ہو جائے تو اس پر بھی ضمان نہیں آئے گا۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

الإيداع شرعاً تسليط الغير على حفظ ماله صريحاً أو دلالة

وهي أمانة، هذا حكمها مع وجوب الحفظ والأداء عند الطلب، واستحباب قبولها، فلا تضمن بالهلاك. (الدر المختار: ۵/٦٦٤، سعيد).

عالمگیری میں ہے:

وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع، وصيرورة المال أمانة في يده، ووجوب أدائه عند طلب مالكه. (الفتاوى الهندية: ٤/۳۳۸).

بدائع الصنائع میں ہے:

إن المبيع أمانة في يد الموكل، ألا تري أنه لو هلك في يده فالهلاك على الموكل. (بدائع الصنائع: ٦/۳۷، سعيد).

فتاوی عالمگیری میں ایک مسئلہ کے ذیل میں لکھا ہے:

فهو ــ أي الوكيل ــ مصدق، لأنه أمين، كذا في محيط السرخسي في باب الوكيل مع الموكل إذا اختلفا. (الفتاوى الهندية: ۳/٦٤٤).

نیز جب کسی نے کسی کو زکوۃ ادا کرنے کا وکیل بنایا اور فقراء متعین اور معروف ہیں، ہر سال انھیں کو زکوۃ دی جاتی ہے، تو وکیل کے قبضہ کرنے سے مزکین کی زکوۃ ادا ہو جاتی ہے، پھر اگر اتفاق سے وکیل کے پاس سے رقم ضائع ہو جائے تو دوبارہ ادا کرنا لازم اور ضروری ادا کرنا لازم اور ضروری نہیں ہے ۔
ہمارے اکابر رحمه الله کے فتاوی سے یہی مترشح ہوتا ہے کہ اربابِ مدرسہ اور ان کے سفراء عاملین صدقہ کے حکم میں ہو کر فقراء کے وکیل ہیں، معطین کی وکالت صرف اس درجہ میں ہے کہ انہوں نے ان حضرات کو فقراء کا وکیل تسلیم کر کے اپنا چندہ ان کے حوالہ کر دیا، جب بحیثیت وکیل رقم پر قبضہ کر لیا تو وہ فقراء کا قبضہ حکمی کہلائے گا ۔ (مستفاد از امداد المفتین، جلد دوم، ۱۰۸۵) ۔
تذکرۃ الرشید میں ہے:
مہتممِ مدرسہ قیم و جملہ طلبہ کا نائب ہوتا ہے پس جو شے کسی نے مہتمم کودی، مہتمم کا قبضہ خود طلبہ کا قبضہ ہے، اس کے قبضے سے ملک معطی سے نکلا، اور ملک طلبہ کا ہو گیا ۔ (تذکرۃ الرشید: ۱٦٤ ۔ و امداد الفتاوی: ۳/۳۱٦ ۔ و نظام الفتاوی: ٤٤٦ ۔ و فتاوی محمودیہ: 9/50٦ ۔ و جدید فقہی مسائل: ۱/۲۲۷) ۔

قال في الدر المختار مع رد المحتار: (لا يخرج عن العهدة)

بخلاف ما إذا ضاعت في يد الساعي، لأن يده كيد الفقراء. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۲۷۰، سعيد).

اور اگر فقراء و مستحقین متعین نہیں ہیں، وکیل اپنی صواب دید پر زکوۃ کا مال خرچ کرتا ہے تو مزکین کی زکوۃ ادا نہیں ہوئی دوبارہ ادا کرنا لازم اور ضروری ادا کرنا لازم اور ضروری ہے ۔

قال في الدر المختار: ولا يخرج عن العهدة بالعزل، بل بالأداء للفقراء. وفي الشامية:
(لا يخرج عن العهدة) فلو ضاعت لا تسقط عنه الزكاة، ولو مات كان ميراثاً عنه، بخلاف ما إذا ضاعت في يد الساعي، لأن يده كيد الفقراء. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۲۷۰، سعيد).

خلاصۃ الفتاوی میں ہے:

رجل عزل زكاة ماله ووضعها في ناحية بيته، فسرقها سارق لا يقطع يده للشبهة وعليه أن يزكيها. (خلاصة الفتاوى: ۱/۲۳۸).

مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی محمودیہ: 9/٤۸۰ ۔ و کفایت المفتی: ٤/۲۹۷ ۔ و فتاوی فریدیہ: ۳/۲۷۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.